MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل کو رکھا جو حقائق کی نگہبانی پر

دل کو رکھا جو حقائق کی نگہبانی پر
شکر میں نے کیا اپنی کسی نادانی پر

کل اچانک وہ مرا لوٹ کے آ نے والا
کتنا حیران ہوا ہے مری حیرانی پر

اب کوئی خواب ہے آنکھوں میں نہ جگنو نہ دیا
میں پریشان ہوں اس بے سر وسامانی پر

بخش کے مجھ کو مری جراتِ اظہار خیال
پھر وہ ناراض ہوا ہے مری من مانی پر

اس نے جب پیش کیا نقش خوش آیندہء سال
آنکھ ہونے لگی دریا مری مہمانی پر

یہ وہی شہر ہے جس شہر میں رقصاں تھی بہار
آنکھ حیران ہے اس شہر کی ویرانی پر

اپنے کچھ ایسے تھے. کہ رفتہ رفتہ
ہم پشیمان ہوئےاپنی پشیمانی پر

ریحانہ احسان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم