MOJ E SUKHAN

ترے کوچے کی تیاری بہت ہے

ترے کوچے کی تیاری بہت ہے
مگر یہ جان بھی پیاری بہت ہے

ہمارے شہر کے دیوار و در پر
یہ شب کٹنے تلک بھاری بہت ہے

ہمارےباغ جلتے جارہے ہیں
اگرچہ شغل گلکاری بہت ہے

ہر اک سو دام ہیں ان راستوں میں
مگر ہم میں بھی ہشیاری بہت ہے ۔

ابھرتے ڈوبتے ان ساحلوں کی
کسی طوفان سے یاری بہت ہے

میں اٹھ کے آئی ہوں جس انجمن سے
وہیں جانے کی تیاری بہت ہے

بہت صدمے اٹھائے ہم نے لیکن
یہ صدمہ جان پہ بھاری بہت ہے

اسے بھی راہ میں غمگین دیکھا
گھڑی ہم پر بھی یہ بھاری بہت ہے

کہیں دل کو قرار آہی نہ جائے
یہ سوچا ہے تو بیزاری بہت ہے

ریحانہ احسان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم