صدائے دل سےجو روک لو تو یہیں کہیں ہوں گیا نہیں ہوں
صدائے دل سےجو روک لو تو یہیں کہیں ہوں گیا نہیں ہوں نہ مٹ سکے جو ترے قدم سے ابھی میں وہ فاصلہ نہیں ہوں میں اپنے محور پہ ہی کھڑا ہوں ڈٹا ہوا ہوں گرا نہیں ہوں جو بھول بیٹھے ہیں یار انکو کوئی بتا دے نیا نہیں ہوں میں جانتا ہوں برستی بارش
صدائے دل سےجو روک لو تو یہیں کہیں ہوں گیا نہیں ہوں Read More »