MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

صدائے دل سےجو روک لو تو یہیں کہیں ہوں گیا نہیں ہوں

صدائے دل سےجو روک لو تو یہیں کہیں ہوں گیا نہیں ہوں نہ مٹ سکے جو ترے قدم سے ابھی میں وہ فاصلہ نہیں ہوں میں اپنے محور پہ ہی کھڑا ہوں ڈٹا ہوا ہوں گرا نہیں ہوں جو بھول بیٹھے ہیں یار انکو کوئی بتا دے نیا نہیں ہوں میں جانتا ہوں برستی بارش

صدائے دل سےجو روک لو تو یہیں کہیں ہوں گیا نہیں ہوں Read More »

زمیں سے تا بہ فلک ہے کہ لامکاں تک ہے

زمیں سے تا بہ فلک ہے کہ لامکاں تک ہے غم حیات ترا سلسلہ کہاں تک ہے فسانہ میرے جنوں کاوہاں وہاں تک ہے تمھارا نقش کف پاء جہاں جہاں تک ہے نفس کے تار جو ٹوٹیں تو ختم ہو شاید وہ فاصلہ کہ قفس سے جو آشیاں تک ہے نہ ہوگا اور کوئی سوز

زمیں سے تا بہ فلک ہے کہ لامکاں تک ہے Read More »

صد شکر کہ رسوائی کا ساماں نہیں رکھتے

صد شکر کہ رسوائی کا ساماں نہیں رکھتے ہم اہل جنوں جیب و گریباں نہیں رکھتے جو سلسلہ وعدہ و پیماں نہیں رکھتے امید کسی سے کسی عنواں نہیں رکھتے سینوں میں لئے پھرتے ہیں طوفان تمنا آنسو جو بظاہر سر مژگاں نہیں رکھتے سچا ہے اگر عشق تو درماں طلبی کیا وہ خوب ہیں

صد شکر کہ رسوائی کا ساماں نہیں رکھتے Read More »

ایسے ہے لفظ پیار کا نفرت کے آس پاس

ایسے ہے لفظ پیار کا نفرت کے آس پاس جیسے چراغ جلتا ہو ظلمت کے آس پاس شاید انہیں کسی کے لبوں نے چھوا نہیں بکھرے پڑے ہیں جام محبت کے آس پاس پیاسی لہو کی ہونے لگی ہیں قرابتیں ایسی بھی آیتیں ہیں قیامت کے آس پاس خاموشیوں کی گونج ہے یا تیز دھڑکنیں

ایسے ہے لفظ پیار کا نفرت کے آس پاس Read More »

راہبر ایسا ہو جو خود بھی ہو منزل آشنا

راہبر ایسا ہو جو خود بھی ہو منزل آشنا جس طرح لہریں ہوا کرتی ہیں ساحل آشنا چاند کی ہے چاندنی تاروں کی جھلمل آشنا نغمگی پھولوں کی آوازِ عنادل آشنا دل تلاشے ہے کہ مل جائے کوئی دل آشنا چلمنیں ہوں ساری واقف اورمحمل آشنا کل تلک تو لوگ ہم سے تھے گریزاں اسقدر

راہبر ایسا ہو جو خود بھی ہو منزل آشنا Read More »

دل میں حسرت لیئے بیٹھے ہیں پرانی باقی

دل میں حسرت لیئے بیٹھے ہیں پرانی باقی لفظ مل جائیں تو لکھ لیں گے کہانی باقی اب نہ وہ ہم ہیں نہ وہ تم نہ جوانی باقی رہ گئی اب تو فقط یاد سہانی باقی جسم میں خون نہ اب آنکھ میں پانی باقی کاش رہ جاتی مرے پاس جوانی باقی کیسےدنیا کو دکھائیں

دل میں حسرت لیئے بیٹھے ہیں پرانی باقی Read More »

کچھ نگاہیں ہیں کہ جو حشر اٹھا دیتی ہیں

کچھ نگاہیں ہیں کہ جو حشر اٹھا دیتی ہیں داستانِ در و دیوار سنا دیتی ہیں کون مدفون ہے کس مقبرہ عالی میں سنگ مرمر کی وہ تحریریں بتا دیتی ہیں ٹوٹی قبروں پہ بھی کچھ گل کی بہاریں دیکھیں جن پہ کتبے بھی نہ تھے انکا پتہ دیتی ہیں کچی اینٹیں بھی بتادیتی ہیں

کچھ نگاہیں ہیں کہ جو حشر اٹھا دیتی ہیں Read More »

وہ بچپنا، وہ لڑکپن، شباب سب کے سب

وہ بچپنا، وہ لڑکپن، شباب سب کے سب گئے وہ دن وہ بہاریں وہ خواب سب کے سب حضور عالی وقار و جناب سب کے سب فنا سبھی کا مقدر، حباب سب کے سب جو تو گیا تو مرے خواب مجھ سے روٹھ گئے تری تلاش میں شاید ہیں خواب سب کے سب وہ جھانکیں

وہ بچپنا، وہ لڑکپن، شباب سب کے سب Read More »

یاد نے ان کی ستایا تو غزل ہونے لگی

یاد نے ان کی ستایا تو غزل ہونے لگی نا رہا ضبط کا یارا تو غزل ہونے لگی تھے ہر اک زخم میں پنہاں کئی منظر نامے سب کو ترتیب سے رکھا تو غزل ہونے لگی آپ غمگین تھے میں ہنس کے بھلا کیا کرتا غم ترا اپنا ہی سمجھا تو غزل ہونے لگی ان

یاد نے ان کی ستایا تو غزل ہونے لگی Read More »

نگاہ عشق میں ہر دل تماشا

نگاہ عشق میں ہر دل تماشا تماشا ہے ارے غافل تماشا ہمارے خوں میں ہے شامل تماشا دکھاتا کیا ہمیں قاتل تماشا ابھی تو تم اکڑ کر چل رہے ہو دکھاۓ گی تمہیں یہ گِل تماشا سر بازار مجھ کو بیچتے ہیں لگا رکھا ہے لا حاصل تماشا تماشے چار سو ہیں زندگی میں مرے

نگاہ عشق میں ہر دل تماشا Read More »