عداوت کو محبت کا ہنر پانے کی خواہش ہے
عداوت کو محبت کا ہنر پانے کی خواہش ہے تخیل ہے! حقیقت میں بدل جانے کی خواہش ہے میں ہوں مدہوش لیکن ہوش میں آنے کی خواہش ہے دم آخر کسی کو جیسے جی جانے کی خواہش ہے جو کچھ بیتی دل ناداں پہ دہرانے کی خواہش ہے اب اپنے دل کو آئینوں سے بہلانے
عداوت کو محبت کا ہنر پانے کی خواہش ہے Read More »