MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

عداوت کو محبت کا ہنر پانے کی خواہش ہے

عداوت کو محبت کا ہنر پانے کی خواہش ہے تخیل ہے! حقیقت میں بدل جانے کی خواہش ہے میں ہوں مدہوش لیکن ہوش میں آنے کی خواہش ہے دم آخر کسی کو جیسے جی جانے کی خواہش ہے جو کچھ بیتی دل ناداں پہ دہرانے کی خواہش ہے اب اپنے دل کو آئینوں سے بہلانے

عداوت کو محبت کا ہنر پانے کی خواہش ہے Read More »

زمانہ پھر سے کویٔ چال چل گیا شاید

زمانہ پھر سے کویٔ چال چل گیا شاید میں موم جیسا تھا پتھر میں ڈھل گیا شاید جو میرے ساتھ تھا آگے نکل گیا شاید یا اسکی سوچ کا رستہ بدل گیا شاید بدن سے روح کا رشتہ ہوا ہے کچھ کمزور اب اپنے ہاتھ سے سب کچھ نکل گیا شاید نظارہ لمحے کا تھا

زمانہ پھر سے کویٔ چال چل گیا شاید Read More »

ہے یقیں حدیثِ ضعیف پر یہ عجیب صورتِ حال ہے

Hay Yaqeen Hadees e zaeef per Yeh ajeeb sorat e Haal Hay غزل ہے یقیں حدیثِ ضعیف پر یہ عجیب صورتِ حال ہےکہوں کیا میں کارِ ثقیف پر یہ عجیب صورتِ حال ہے کرے کیوں نہ گریہ سخنوری رہے کیوں نہ غم میں یہ مبتلاکہ ہے جنگ برپا ردیف پر یہ عجیب صورتِ حال ہے

ہے یقیں حدیثِ ضعیف پر یہ عجیب صورتِ حال ہے Read More »

دیں اجازت مجھے نعت میں کہہ سکوں اے حبیبِ خدا خاتم الانبیا

Dain ijazat mujhy naat main keh sakoon ayee habeeb e khuda khatim ul anbiya نعت دیں اجازت مجھے نعت میں کہہ سکوں اے حبیبِ خدا خاتم الانبیا در پہ آیا ہے اک آپ کا امتی اے شفیع الوریٰ خاتم الانبیا میں نے غزلیں کہیں میں نے نظمیں کہیں ہجر اور وصل کی گویا خبریں پڑھیں

دیں اجازت مجھے نعت میں کہہ سکوں اے حبیبِ خدا خاتم الانبیا Read More »

آنکھوں میں انتظار کا اک در کھلا ہوا

Aankhoon Main Intizar ka ik Dar khula Howa غزل آنکھوں میں انتظار کا اک در کھلا ہوا اور اس کے پار میں ہوں مرا دل بجھا ہوا کرنے لگا ہے شور عجب پتلیوں کا دل کیونکہ ہے اس پہ وصل کا لمحہ رکا ہوا میں نے تو مان رکھا تھا خاموشیوں کا بس اندر سے

آنکھوں میں انتظار کا اک در کھلا ہوا Read More »

اب سرِ بزم متانت نہیں ہو گی ہم سے

Abh sar e bazm matanat nahi hogi ham say غزل اب سرِ بزم متانت نہیں ہو گی ہم سےفتنہ گر تیری اعانت نہیں ہو گی ہم سے باعثِ شرم ارادوں پہ سوال اُٹھے گایاد رکھ کوئی ضمانت نہیں ہو گی ہم سے گر تفاخر ہے یہ احساسِ وفاداری تواب امانت میں خیانت نہیں ہو گی

اب سرِ بزم متانت نہیں ہو گی ہم سے Read More »

کتابِ زیست کو لکھنا بھی کارِ دارد ہے

Kitab e zeest ko likhna bhi kar e darud Hay غزل کتابِ زیست کو لکھنا بھی کارِ دارد ہےحسابِ زیست سمجھنا بھی کارِ دارد ہے تمہاری بات سمجھ کر بھی کیا کروں گا میںتمہاری بات میں پڑنا بھی کارِ دارِد ہے کوئی سِرا تو ملے کوئی آسرا تو ملےہاں یہ گمان ہی کرنا بھی کارِ

کتابِ زیست کو لکھنا بھی کارِ دارد ہے Read More »

زندہ ہوں زندگی کے غموں کو سنبھالنے

Zinda hoon zindagi kay ghamoo ko sanbhalnay نظم زندہ ہوں زندگی کے غموں کو سنبھالنےپیتا ہوں دھڑکنوں کی دھنوں کو سنبھالنے ایثارِ آدمی کی نہیں قدر اب یہاںلوگوں کو دوستوں کی نہیں فکر اب یہاں احساسِ بد گماں نے فسانے بنا لیےچہروں پہ بے اماں کئی چہرے سجا لیے بے تاب روح جیسے یہ آوارہ

زندہ ہوں زندگی کے غموں کو سنبھالنے Read More »

ترے گداز ترے حسن سوگوار پہ ہم

Tray Gudaz tray Husn soawar pa ham غزل ترے گداز ترے حسن سوگوار پہ ہمشکستہ دل ہیں دلِ داغدارِ یار پہ ہم یہ سرمئی سا اندھیرا یہ قربتوں کے مزاریہ بے بسی کی متانت یہ بے حسی کا حصار فروغِ جذبہِ پنہاں کی آرزو کا فسوںسکوت وصل کا لمحہ مقامِ ہجر و جنوں دعاۓ آخرِ

ترے گداز ترے حسن سوگوار پہ ہم Read More »

راہِ وفا میں چلنے کو تیار ہو تو لیں

راہِ وفا میں چلنے کو تیار ہو تو لیںہم تم سے پہلے خود سے وفادار ہو تو لیں ہے دل میں درد آنکھ میں آنسو بھی لایےکچھ کیجئے ذرا سا اداکار ہو تو لیں اس شوخ نے بلایا ہے ملنے تو جائیں گےپہلے ذرا سا عشق کے بیمار ہو تو لیں ہر دوسرے پہ انگلی

راہِ وفا میں چلنے کو تیار ہو تو لیں Read More »