Hay Yaqeen Hadees e zaeef per Yeh ajeeb sorat e Haal Hay
غزل
ہے یقیں حدیثِ ضعیف پر یہ عجیب صورتِ حال ہے
کہوں کیا میں کارِ ثقیف پر یہ عجیب صورتِ حال ہے
کرے کیوں نہ گریہ سخنوری رہے کیوں نہ غم میں یہ مبتلا
کہ ہے جنگ برپا ردیف پر یہ عجیب صورتِ حال ہے
ہے اڑان بھرنے کی آرزو مرے دل کی گلیوں میں در بدر
ہے یہ بار قلبِ نحیف پر یہ عجیب صورتِ حال ہے
یہ زمانہ کھائے گا غش یہاں یہی سچ ہے دیکھنا ایک دن
ہے مجھے بھروسا حریف پر یہ عجیب صورتِ حال ہے
دلِ مضطرب تری آہ پر جہاں خود کو توڑ کے رکھ دیا
وہاں ظلم قلبِ ضعیف پر یہ عجیب صورتِ حال ہے
میں کہوں تو اس پہ کہوں بھی کیا نہیں دیکھتا کوئی فن مرا
ہے نظر لباسِ کثیف پر یہ عجیب صورتِ حال ہے
وہی در بدر رہا عمر بھر وہی تشنہ لب رہا عمر بھر
تھا یقین جس کو حلیف پر یہ عجیب صورتِ حال ہے
ہے یہ مصلحت یا ہے معجزہ کوئی راز اس میں ہے جاوداں
ہے ہجوم دامِ شریف پر یہ عجیب صورتِ حال ہے
ہوا بت کدے میں مشاعرہ تو مری غزل نہ چلی وہاں
ہوا شور شعرِ ظریف پر یہ عجیب صورتِ حال ہے
وہ جو سبز کھیتوں کو کھا گئے وہی مل کے موجِ نسیم اب
کریں شور فصلِ خریف پر یہ عجیب صورتِ حال ہے
نسیم شیخ
Naseem Shaikh