MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یہی قصہ ہے ہر گھر کا ، یہ ہر گھر کی کہانی ہے

یہی قصہ ہے ہر گھر کا ، یہ ہر گھر کی کہانی ہےکہیں پہ ساس کی چلتی، کہیں دلہن سیانی ہے ہیں جھگڑے نند بھاوج کے کہیں پہ روز وشب لیکنکہیں پہ صرف بس اک ساس ہی کی حکمرانی ہے ہے دیکھا یہ بھی اکثر ہو جہاں بہتات بہوؤں کیجٹھانی ہے وہاں خود سر یا

یہی قصہ ہے ہر گھر کا ، یہ ہر گھر کی کہانی ہے Read More »

جو تیرگی کو مٹادے وہ روشنی ہوجا

جو تیرگی کو مٹادے وہ روشنی ہوجافنا جو کردے جہالت وہ آگہی ہوجا خدا شناسی تری دسترس سے باہر ہےتو اپنے آپ کو پہچان اور ولی ہوجا اگر گزر ہو ترا نفرتوں کی بستی سےجہاں قیامِ محبت ہو وہ گلی ہوجا ہے تیری ذات میں موجود حق بھی باطل بھیہے اختیار تجھے، چاہے جو، وہی

جو تیرگی کو مٹادے وہ روشنی ہوجا Read More »

دردِ فراق جب سے مقدر میں آگیا

دردِ فراق جب سے مقدر میں آگیادل کا سفینہ اشک کے ساگر میں آگیا اوڑھے ہوئے ردائے رفاقت، پیامِ ہجربن کر رفیقِ درد مرے گھر میں آگیا افسانۂ حیات تلاشِ حیات میںساحل سے دور بیچ سمندر میں آگیا پہلے کہیں سے عشق نے ڈھونڈا مِرا سراغاور اس کے بعد فکر کے محور میں آگیا وہ

دردِ فراق جب سے مقدر میں آگیا Read More »

عشقِ توحید رگ و پے میں بسالے کوئی

عشقِ توحید رگ و پے میں بسالے کوئیخود میں موجود یہ احساس جگالے کوئی ظلمتِ قلب اجالوں میں بدل جائے گیشمع گر دل میں تصوف کی جلالے کوئی میں نے دیکھا ہے تصور میں خدا کو اکثرمیرے احساس کی تصویر بنالے کوئی زہد و تقویٰ سے بھی مل سکتی ہے تاثیرِ سخنکیا ضروری ہے غمِ

عشقِ توحید رگ و پے میں بسالے کوئی Read More »

کس قدر سادہ و معصوم نظر آتے ہیں

کس قدر سادہ و معصوم نظر آتے ہیںظلم کرکے بھی وہ مظلوم نظر آتے ہیں جن کے ہاتھوں سے مرے قتل کا سامان ہواسب سے زیادہ وہی مغموم نظر آتے ہیں منتخب کرکے بنایا جنھیں حاکم ہم نےوہ کسی اور کے محکوم نظر آتے ہیں جسم ملبوس ہیں مذہب کے لبادوں میں مگرقلب ایمان سے

کس قدر سادہ و معصوم نظر آتے ہیں Read More »

جب سے جانا ہے کہ دنیا میں وفا کوئی نہیں

جب سے جانا ہے کہ دنیا میں وفا کوئی نہیںپھر کسی سے بھی رہا ہم کو گِلہ کوئی نہیں ہر طرف جھوٹ ہے، دھوکا ہے، بے ایمانی ہےاور اخلاص و محبت کا صلہ کوئی نہیں ہر زباں پر گلے شکوے تو بہت ہیں لیکنحرفِ تحسین نہیں لفظِ دعا کوئی نہیں اجنبی ہوگئے وہ لوگ جو

جب سے جانا ہے کہ دنیا میں وفا کوئی نہیں Read More »

جسم ناقص تھا سو انجام فنا ہی آیا

جسم ناقص تھا سو انجام فنا ہی آیاروح کامل تھی تو انعام بقا ہی آیا لوحِ دل پہ لکھی تحریر حقیقت نکلیزیست کا آخری پیغام قضا ہی آیا ظرفِ احباب رہا صرف تماشہ بینیکام آیا ہے کوئی گر تو خدا ہی آیا مجھ سے ابلیس کو شکوہ ہی رہا ساری عمرجب بھی آیا وہ مرے

جسم ناقص تھا سو انجام فنا ہی آیا Read More »

زندگی کا یہی فسانہ ہے

زندگی کا یہی فسانہ ہےجو بھی آیا ہے اس کو جانا ہے کس لئے موت سے ڈریں آخرموت کو ایک دن تو آنا ہے جسم اور روح کا تعلق توشاخِ نازک پہ آشیانہ ہے خاک سے خاک تک پہنچنے کازندگی تو بس اک بہانہ ہے کوئی رشتہ بھی پائیدار نہیںسب کو آخر بچھڑ ہی جانا

زندگی کا یہی فسانہ ہے Read More »

کبھی سحر سے کبھی تیرگی سے شکوہ ہے

کبھی سحر سے کبھی تیرگی سے شکوہ ہےکبھی خدا سے کبھی آدمی سے شکوہ ہے جو اپنی ذات سے خود آشنا نہیں اس کوبس ایک اپنے سوا ہر کسی سے شکوہ ہے مجازی عشق کسی کو سکوں نہیں دیتاجسے بھی دیکھو اُسے دل لگی سے شکوہ ہے وفا اس عہدِ جفا میں ہے اک فریبِ

کبھی سحر سے کبھی تیرگی سے شکوہ ہے Read More »

یوں تو کتنوں سے زمانے میں شناسائی ہے

یوں تو کتنوں سے زمانے میں شناسائی ہےپھر بھی اس دل میں عجب عالمِ تنہائی ہے پہلے کچھ لوگ تو رکھتے تھے وفاؤں کا بھرماب تو ہر شخص ہی لگتا ہے کہ ہرجائی ہے دل میں شکوہ ہے نہ حسرت نہ تمنا ہے کوئیجب سے اس جرمِ محبت کی سزا پائی ہے ہم کہ برباد

یوں تو کتنوں سے زمانے میں شناسائی ہے Read More »