MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کتابِ زیست کو لکھنا بھی کارِ دارد ہے

Kitab e zeest ko likhna bhi kar e darud Hay

غزل

کتابِ زیست کو لکھنا بھی کارِ دارد ہے
حسابِ زیست سمجھنا بھی کارِ دارد ہے

تمہاری بات سمجھ کر بھی کیا کروں گا میں
تمہاری بات میں پڑنا بھی کارِ دارِد ہے

کوئی سِرا تو ملے کوئی آسرا تو ملے
ہاں یہ گمان ہی کرنا بھی کارِ دارِد ہے

بس ایک بات کچوکے لگاتی ہے دل کو
چنانچہ ساتھ ٹھہرنا بھی کارِ دارِد ہے

ذرا سی ٹھیس جو لگ جائے حرفِ عزت کو
تو ایسی راہ پہ چلنا بھی کارے دارِد ہے

سکون ڈھونڈتا رہتا ہوں اپنے اندر ہی
مگر سکون کا ملنا بھی کارے دارِد ہے

میں اعتراف کروں بھی تو کچھ نہیں حاصل
یہ اعتراف تو کرنا بھی کارے دارِد ہے

وہ چاہتا ہے کہ بس اُس کے کام آتا رہوں
اُسے یہ بات بتانا بھی کارے دارِد ہے

خالد میر

Khalid Meer

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم