MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہمیں ہست و بود پر جو کوئی اختیار ہوتا

ہمیں ہست و بود پر جو کوئی اختیار ہوتاتو سفر یہ زندگی کا ذرا خوشگوار ہوتا ترے فیصلوں کے تابع ہے نوشتۂ مقدرکبھی ہم سے مشورہ بھی تو اے کردگار ہوتا ہوئے شش جہت ہویدا، تری اک صدائے کُن سےنہ وہ غلغلہ بکھرتا، نہ یہ انتشار ہوتا ترے دارالابتلا میں ہوا امتحان پیہمہمیں کب کوئی

ہمیں ہست و بود پر جو کوئی اختیار ہوتا Read More »

نبی سے عشق کرتے ہیں ہمیں کیا غم زمانے کا

نبی سے عشق کرتے ہیں ہمیں کیا غم زمانے کادرِ احمد کے منگتے ہیں ہمیں کیا غم زمانے کا محمد مصطفیٰ کا نامِ نامی اسمِ اعظم ہےہم اِسکا ورد کرتے ہیں ہمیں کیا غم زمانے کا متاعِ دوجہاں ملتی ہے توصیفِ محمد سےہم ان کی نعت پڑھتے ہیں ہمیں کیا غم زمانے کا رہِ انسانیت

نبی سے عشق کرتے ہیں ہمیں کیا غم زمانے کا Read More »

پیکرِ جرأت وفا کی انتہا عباس ہیں

پیکرِ جرأت وفا کی انتہا عباس ہیںثانئ حیدر ہیں شیرِ کربلا عباس ہیں جس طرح ہیں قوتِ بازوئے احمد مرتضیٰقوتِ شبیر زہرا کی دعا عباس ہیں کرلے جو زیرِ نگیں دشمن کو بے تیغ و سپرمظہرِ خیبر شکن، لشکر کشا عباس ہیں آس پانی کی نہیں ٹوٹی خیامِ شاہ میںجب تلک بچوں کو تھی ڈھارس

پیکرِ جرأت وفا کی انتہا عباس ہیں Read More »

ہر دردِ لادوا کی دوا ہے علی علی

ہر دردِ لادوا کی دوا ہے علی علیاس دل کی دھڑکنوں کی صدا ہے علی علی میں نے لیا جو نامِ علی اعتراض کیوںمیرے نبی کے لب پہ رہا ہے علی علی اس کو منافقت کی سند پیش کیجیےمومن نہیں جو سن کے خفا ہے علی علی حق ہے علی کے ساتھ علی حق کے

ہر دردِ لادوا کی دوا ہے علی علی Read More »

یہ بھی کیا عجب ہے معاملہ کوئی چل دیا کوئی آ گیا

غزل یہ بھی کیا عجب ہے معاملہ  کوئی چل دیا کوئی آ گیامری بے بسی کا یہ سلسلہ مجھے بیچوں بیچ ہی کھا گیا مرے فکر و خواب و خیال کی نہ کسی طرح بھی گرہ کُھلی جو کہا کسی سے بتاۓ کچھ نئی اُلجھنوں میں پھنسا گیا مرا جل ترنگ نہ دیکھۓ مری تاب

یہ بھی کیا عجب ہے معاملہ کوئی چل دیا کوئی آ گیا Read More »

اتنے منہ زور وہ ہوتے تھے کہاں پہلے پہل

اتنے منہ زور وہ ہوتے تھے کہاں پہلے پہل تیز ہر گز نہ تھی ایسے تو زباں پہلے پہل اب کہ اک شہر ہے اُس در پہ جبیں رکھے ہوے صرف میرے ہی تھے ماتھے کے نشاں پہلے پہل رفتہ رفتہ دل مہجور سنبھل جاتا ہے ہجر میں ہوتی ہے خوب آہ و فغاں پہلے

اتنے منہ زور وہ ہوتے تھے کہاں پہلے پہل Read More »

بے جا گریز پا نہیں مجھ سے مرے عزیز – Be ja guraiz pa nahi mujhse mere aziz

بے جا گریز پا نہیں مجھ سے مرے عزیز میری اُداسیوں سے ہیں ڈرتے مرے عزیز گور و کفن کے واسطے آئے ہیں یوں کہ بس فاقوں سے مرتے وقت کہاں تھے مرے عزیز تا عمر چیخ چیخ جتاتا رہا ہوں میں تا عمر میرا درد نہ جانے مرے عزیز تا عمر بھول کر بھی

بے جا گریز پا نہیں مجھ سے مرے عزیز – Be ja guraiz pa nahi mujhse mere aziz Read More »

حرف زن ہو جو کوئی پینے پر- Harf e zan ho jo koi peene par

حرف زن ہو جو کوئی پینے پر چوٹ پڑتی ہے آبگینے پر عشق جب کوئ مسئلہ ہی نہیں سانپ کیوں لوٹتے ہیں سینے پر ناخدائی کا بھید کھُلنے لگا نوحہ خواں ہیں بھنور سفینے پر جسے کہتے ہیں رنگ کالا لوگ خوب جچتا ہے اُس کمینے پر بد دعا اور دوستوں کے لیے تُف ہے

حرف زن ہو جو کوئی پینے پر- Harf e zan ho jo koi peene par Read More »

اچّھے بھلے تھے یار اچانک یہ کیا ہوا – Achay bhalay thy yar achanak ye kya hua

اچّھے بھلے تھے یار اچانک یہ کیا ہوا ویراں ہیں خواب زار اچانک یہ کیا ہوا تو ہم نشیں ہمارا تھا اوروں کا تو نہیں غیروں سے ہمکنار! اچانک یہ کیا ہوا محور سے ہٹ کے تو نے تماشا بنا دیا اے یارِ نامدار اچانک یہ کیا ہوا یارانِ دل بھی اہلِ زمانہ سے ہو

اچّھے بھلے تھے یار اچانک یہ کیا ہوا – Achay bhalay thy yar achanak ye kya hua Read More »

ناوکِ وقت نہ شمشیرِ جفا کے باعث – Na wak e waqt na shamsheer e jafa ke bais

ناوکِ وقت نہ شمشیرِ جفا کے باعث مر گئے ہم تو فقط تیری رضا کے باعث ہائے اُس برگِ تر و تازہ کی تقدیر کہ جو گِر گیا شاخ سے منہ زور ہوا کے باعث ورنہ پُر خوف و بلا خیز تھا جادہ ء حیات ہے جو رنگیں تو ہمی آبلا پا کے باعث صبحِ

ناوکِ وقت نہ شمشیرِ جفا کے باعث – Na wak e waqt na shamsheer e jafa ke bais Read More »