ہمیں ہست و بود پر جو کوئی اختیار ہوتا
ہمیں ہست و بود پر جو کوئی اختیار ہوتاتو سفر یہ زندگی کا ذرا خوشگوار ہوتا ترے فیصلوں کے تابع ہے نوشتۂ مقدرکبھی ہم سے مشورہ بھی تو اے کردگار ہوتا ہوئے شش جہت ہویدا، تری اک صدائے کُن سےنہ وہ غلغلہ بکھرتا، نہ یہ انتشار ہوتا ترے دارالابتلا میں ہوا امتحان پیہمہمیں کب کوئی
ہمیں ہست و بود پر جو کوئی اختیار ہوتا Read More »