ترا مزاج تری بے رخی نہیں بدلی
ہمیں بھی دیکھ لے ہم نے گلی نہیں بدلی
جو ایک چھوڑ کے بدلی ہیں عادتیں اپنی
وہ ایک یہ ہے کہ آوارگی نہیں بدلی
کیا ہے ایسی لگن سے طوافِ کوچہء یار
کہ ہم نے قدموں کی تعداد بھی نہیں بدلی
یہ مجھ سے کہنے لگا یارِآستیں ڈس کر
وہ کیا کہ سانپ نے فطرت کبھی نہیں بدلی
یہی گلہ ہے کہ اچھے دنوں کی حسرت میں
گزر گئی ہے مگر زندگی نہیں بدلی
سنی ہے بارہا کہہ کر بکھر گیا مجمع
سنا بھی اس نے مگر بات ہی نہیں بدلی
مصالحت کا کوئی فائدہ نہیں ہے حسن
جب اس کی فطرت رسہ کشی نہیں بدلی
احتشام حسن