MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ترا مزاج تری بے رخی نہیں بدلی – Tera Mizaj teri berukhi nahi badli

ترا مزاج تری بے رخی نہیں بدلی
ہمیں بھی دیکھ لے ہم نے گلی نہیں بدلی

جو ایک چھوڑ کے بدلی ہیں عادتیں اپنی
وہ ایک یہ ہے کہ آوارگی نہیں بدلی

کیا ہے ایسی لگن سے طوافِ کوچہء یار
کہ ہم نے قدموں کی تعداد بھی نہیں بدلی

یہ مجھ سے کہنے لگا یارِآستیں ڈس کر
وہ کیا کہ سانپ نے فطرت کبھی نہیں بدلی

یہی گلہ ہے کہ اچھے دنوں کی حسرت میں
گزر گئی ہے مگر زندگی نہیں بدلی

سنی ہے بارہا کہہ کر بکھر گیا مجمع
سنا بھی اس نے مگر بات ہی نہیں بدلی

مصالحت کا کوئی فائدہ نہیں ہے حسن
جب اس کی فطرت رسہ کشی نہیں بدلی

احتشام حسن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم