MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس سے پہلے کے نشانات مٹائے جائیں

اس سے پہلے کے نشانات مٹائے جائیں
میرے قاتل مرے سردار بنائے جائیں

وقت سمجھاتا ہے انسان کو ہر بات تو پھر
کیا ضروری ہے کے ہتھیار اٹھائے جائیں

کھا گئے نوچ کے جو لوگ وطن کو میرے
اب ضروری ہے کہ گھر ان کے جلائے جائیں

وسوسے کھانے لگے ہیں در و دیوارِ یقیں
فاصلے اس لیے آپس کے گھٹائے جائیں

منزلیں خود ہی سمٹ آئیں گے ہے شرط یہی
جو بھی اقرار ہوئے ہم سے نبھائے جائیں

کیسے تسلیم کروں تیرے میں بے ربط اصول
جب زمانےیہاں حق اپنوں کے کھائے جائیں

میں بھی اقبال ہوں میں اس لیے کہتا ہوں تمہیں
میرے جو جرم ہیں وہ مجھ کو بتائے جائیں

ڈاکٹر سید محمد اقبال شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم