MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

میرے ہر خواب کی تعبیر ملی ہے مجھ کو

میرے ہر خواب کی تعبیر ملی ہے مجھ کوعشقِ احمد سے یہ تقدیر ملی ہے مجھ کو نقش آئینۂ دل پر ہے نبی کا چہرہمیرے سرکار کی تصویر ملی ہے مجھ کو دل میں رہتا ہے مرے صرف محمد کا خیالاس طرح سوچ کی تطہیر ملی ہے مجھ کو باپ سے مجھ کو وراثت میں

میرے ہر خواب کی تعبیر ملی ہے مجھ کو Read More »

کچھ کام ہمیں ہجر سے نہ اب وصال سے – Kuch kaam hamain hijr se na ab wisal se

کچھ کام ہمیں ہجر سے نہ اب وصال سےتم کو چرا لیا ہے تمہارے خیال سے مجھ سے تو کہہ رہے ہو بھلا دو مجھے مگرکیا تم نکل سکو گے محبت کے جال سے پوچھا کبھی کہ زخم بھرے بھی ہیں یا نہیںکیا کیا بنا لیا ہے درختوں کی چھال سے بس ایک ہی دعا

کچھ کام ہمیں ہجر سے نہ اب وصال سے – Kuch kaam hamain hijr se na ab wisal se Read More »

ہماری آنکھوں میں گر نمی ہے تو زندگی ہے Hamari ankho main gar nami hai tou zindagi hai

ہماری آنکھوں میں گر نمی ہے تو زندگی ہےجو زندگی میں کوئی کمی ہے تو زندگی ہے سکوت طاری جو ہو گیا تو تمام شد ہےکوئی خموشی جو بولتی ہے تو زندگی ہے جو موڑ آگے پڑا ہوا ہے وہ جا کے دیکھووہاں نئی راہ گر بنی ہے تو زندگی ہے تمام حاصل تو زندہ

ہماری آنکھوں میں گر نمی ہے تو زندگی ہے Hamari ankho main gar nami hai tou zindagi hai Read More »

دن میں چراغ شام جلایا تھا ان دنوں Din main chiragh sham jalaya the in dino

دن میں چراغ شام جلایا تھا ان دنوںاک شخص میرے شہر میں آیا تھا ان دنوں میرا بھی حال ان دنوں کچھ تھا عجیب سااس کا بھی دل کسی نے دکھایا تھا ان دنوں سکے کسی کی یاد کے آنچل میں بھر لئےچھن چھن انہیں بھی خوب ہلایا تھا ان دنوں کب تک رہے گی

دن میں چراغ شام جلایا تھا ان دنوں Din main chiragh sham jalaya the in dino Read More »

ڈوبتے وقت کے دھاروں سے نکل آئے ہیں Doobte waqt ke dharon se nikal ae hain

ڈوبتے وقت کے دھاروں سے نکل آئے ہیںکچھ نئے رنگ اشاروں سے نکل آئے ہیں آپ کو دیکھ کر اک ایسا معجزہ ہوا ہےپھول پلکوں کے کناروں سے نکل آئے ہیں ایسا کیسے ہوا یہ سوچ کے حیران ہوں میںچند سائے جو ستاروں سے نکل آئے ہیں اپنی منزل کے سفر کے لیے تنہا چل

ڈوبتے وقت کے دھاروں سے نکل آئے ہیں Doobte waqt ke dharon se nikal ae hain Read More »

آنکھ کے شہر میں رہتے ہو سمندر کی طرح Ankh ke sheher mai rehte ho samandar ki tarhan

آنکھ کے شہر میں رہتے ہو سمندر کی طرحصبح کی دھوپ ہو اور شام کے امبر کی طرح جب تلک چاند کا یہ عکس ندی میں اترےآو باتیں کریں ہم تم کسی منظر کی طرح کوئی دیوار ہو دل اس کو گرا سکتا ہےپیار کی دوڑ سے بندھ کر کسی منتر کی طرح زندگی یوں

آنکھ کے شہر میں رہتے ہو سمندر کی طرح Ankh ke sheher mai rehte ho samandar ki tarhan Read More »

شہر قائم رہے مینار کے ساتھ Sheher qaim rahe minar ke sath

شہر قائم رہے مینار کے ساتھسر سلامت رہے دستار کے ساتھ کس کے بارے میں کریں بات جہاںپھول ہاتھوں میں ہوں تلوار کے ساتھ میں کہاں جا کے بھلا دستک دوںکوئی در بھی تو ہو دیوار کے ساتھ دشمن جاں کی اگر باتیں کرےکیا کروں ایسے طرفدار کے ساتھ روشنی کا ہے سفر یاد مجھےطے

شہر قائم رہے مینار کے ساتھ Sheher qaim rahe minar ke sath Read More »

امید کیا، قرار کیا

امید کیا، قرار کیا کسی کا اعتبار کیا خزاں سے کون پوچھتا گزر گئی بہار کیا جو زندگی نہیں رہی تو صبر و انتظار کیا سراپا اضطرار ہوں ثبوتِ اضطرار کیا مجھے یہ زخم پھول ہیں مری خزاں، بہار کیا تُو کھائے تو پتہ چلے ہے زندگی کی مار کیا دھواں دھواں ہے آسماں کوئی

امید کیا، قرار کیا Read More »

بجھــــانے کس کو چلی ہے یہ تند و تیز ہوا

بجھــــانے کس کو چلی ہے یہ تند و تیز ہوا کوئی چــراغ نہیں گھر میں آنسوؤں نے کہا یہ کس کی آنکھ سے بہنے لگا ہمـــــارا لہو یہ کس کے ہاتھ لگانے لگے ہیں خاکِ شفا بدلنےلگتے ہو’کیوں دیکھ کر مجھے، سَمتیں نہ میں ستارہ ہوں کوئی.’ نہ میں ستارہ نما کسی چٹان سے میں

بجھــــانے کس کو چلی ہے یہ تند و تیز ہوا Read More »

جو تو نہیں ہے تو غم نہیں ہے، یہ کم نہیں ہے

جو تو نہیں ہے تو غم نہیں ہے، یہ کم نہیں ہے ہماری آنکھوں میں نم نہیں ہے، یہ کم نہیں ہے روایتِ مے کشی بدل دی نظر سے اُس نے ہے قند ساغر میں سم نہیں ہے ،یہ کم نہیں ہے کھلایا صحرا میں صورتِ گل جسے صبا نے حضورِ گلچیں ،وہ خم نہیں

جو تو نہیں ہے تو غم نہیں ہے، یہ کم نہیں ہے Read More »