MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

پہلے پہل تو وحشت طاری ہوتی ہے

پہلے پہل تو وحشت طاری ہوتی ہے اس کے بعد ہی گریہ زاری ہوتی ہے دن بھی ان کا روتے روتے کٹتا ہے دیوانوں پر رات بھی بھاری ہوتی ہے کھل جائے خود پھول کہاں یہ ممکن ہے بادِ صبا کی کار گذاری ہوتی ہے ایسے گھر کو تنہا چھوڑ نہیں سکتے جانے سے پہلے

پہلے پہل تو وحشت طاری ہوتی ہے Read More »

آج تنہا ہیں تو وا ہم پہ یہ مفہوم ہوا

آج تنہا ہیں تو وا ہم پہ یہ مفہوم ہوا خود سے مِلنا بھی کسی اور کا مقسوم ہوا اشک آنکھوں سے بہت دیر تلک بہتے رہے درد کیا چیز ہے’ یہ دیر میں معلوم ہوا میں وہ تحریر جو اک اجنبی دستک کو ملی میں وہ خط ہوں جو کسی غیر کو مرقوم ہوا

آج تنہا ہیں تو وا ہم پہ یہ مفہوم ہوا Read More »

جو کنجِ ذات سے نکلے بھی ہم، تو کیا ہو گا

جو کنجِ ذات سے نکلے بھی ہم، تو کیا ہو گا زمیں کے بدلیں گے تیور، نہ آسمانوں کے وہی سلگتی ہوئی ریت ہو گی ماضی کی وہی سسکتے ہوئے خواب ہونگے فردا کے جو کنجِ ذات سے نکلے بھی ہم تو کیا ہو گا روش روش پہ وہی دھول ہو گی جذبوں کی نگاہ

جو کنجِ ذات سے نکلے بھی ہم، تو کیا ہو گا Read More »

کون کس کے گرد، محوِ رقص ہے مت سوچئے

کون کس کے گرد، محوِ رقص ہے مت سوچئے اپنے اپنے دائروں میں رہ کے خود کو کھوجئے دوسروں کے غم میں کیوں ہلکان خود کو کیجئے اپنا رونا ہی بہت ہے کیوں کسی کا روئیے جس کے برگ و بار پر سایہ پڑے مہتاب کا جس کی شاخیں، آسماں تک ہو شجر وہ بوئیے

کون کس کے گرد، محوِ رقص ہے مت سوچئے Read More »

راہ میں انتظار مت کیجئے

راہ میں انتظار مت کیجئے درد کو بے وقار مت کیجئے جائیے پھول لے کے قبروں پر زندہ لوگوں سے پیار مت کیجئے چین کیا چیز ہے بھلا دوں میں اسقدر بے قرار مت کیجئے کھائیے مت, فریب پھولوں سے خود کو وقفِ بہار مت کیجئے لوگ کہتے ہیں ٹھیک کہتے پیں آپ لوگوں سے

راہ میں انتظار مت کیجئے Read More »

کیفیت خود پہ وہ طاری نہیں ہوتی مجھ سے

کیفیت خود پہ وہ طاری نہیں ہوتی مجھ سے جوئے آورد تو جاری نہیں ہوتی مجھ سے خود سے کر لیتی ہوں تنہائی میں باتیں اکثر در و دیوار سے یاری نہیں ہوتی مجھ سے جانے کیا درد ہے جو پہروں رلاتا ہے مجھے موجِ خوں یونہی تو جاری نہیں ہوتی مجھ سے خامشی ایک

کیفیت خود پہ وہ طاری نہیں ہوتی مجھ سے Read More »

ہر برگِ امید جلایا جا سکتا ہے

ہر برگِ امید جلایا جا سکتا ہے اور ملبے پر شہر بسایا جا سکتا یے جتنا چاہیں, شور مچایا جا سکتا ہے پیالی میں طوفان اٹھایا جا سکتا ہے آنکھیں نوچ کے باہر پھینکی جا سکتی ہیں خوابوں سے بھی ہاتھ چھڑایا جا سکتا ہے دھندلی سی تصویر بنائی جا سکتی ہے اور تصویر سے

ہر برگِ امید جلایا جا سکتا ہے Read More »

اب پاکی ء دامن پہ ہیں الزام کے دھبے

اب پاکی ء دامن پہ ہیں الزام کے دھبے کردار کے دھبے تو کبھی نام کے دھبے زاہد کے عمامے پہ تھے رندوں کی قبا پر ساقی نے جو چھلکائے اُسی جام کے دھبے اس دل پہ ہیں بس خون کے دھبے ہی نمایاں جاں پر ہیں مری رنج کے، آلام کے دھبے لگتا ہے

اب پاکی ء دامن پہ ہیں الزام کے دھبے Read More »

ڈھونڈ رہے ہو شہر میں اپنا ہم سر کیا

ڈھونڈ رہے ہو شہر میں اپنا ہم سر کیا مل جائے گا تم کو تم سے بہتر کیا شور ہے باہر ،اندر ایک تلاطم کیوں روزن سے داخل ہوتا ہے محشر کیا ؟ مستقبل کی فکر میں گزرا ہے ماضی حال ہمارا اس سے ہوگا ابتر کیا گھر کی چار دیواری بس محفوظ رہے سازش

ڈھونڈ رہے ہو شہر میں اپنا ہم سر کیا Read More »

جواب اُس کے سبھی تو نہیں کمال کے تھے

جواب اُس کے سبھی تو نہیں کمال کے تھے کرشمہ جات ہمارے بھی کچھ سوال کے تھے خزاں کی مہکی ہوئی شام کہہ رہی ہے کہ سب چمن میں رنگ مرے یارِ خوش خصال کے تھے اُن ہی کی یاد میں گزری ہے اپنی عمر تمام جو لمحے تیرے مرے قرب اور وصال کے تھے

جواب اُس کے سبھی تو نہیں کمال کے تھے Read More »