MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ڈھونڈ رہے ہو شہر میں اپنا ہم سر کیا

ڈھونڈ رہے ہو شہر میں اپنا ہم سر کیا
مل جائے گا تم کو تم سے بہتر کیا

شور ہے باہر ،اندر ایک تلاطم کیوں
روزن سے داخل ہوتا ہے محشر کیا ؟

مستقبل کی فکر میں گزرا ہے ماضی
حال ہمارا اس سے ہوگا ابتر کیا

گھر کی چار دیواری بس محفوظ رہے
سازش گھر سے باہر ہو کہ اندر کیا

روشنیوں کے شہر میں سورج قتل ہوا
میں بھی ایک چراغ جلا لوں در پر کیا

کون نہیں ہے اُس کے آگے سجدہ ریز
مالک، نوکر ، شاہ ، سپاہ ، قلندر کیا

سنگِ میل بنا لو سیما منزل کا
سہہ پائے گا دل یہ تیرا ٹھوکر کیا

عشرت معین سیما

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم