خواب تعبیر میں ڈھلتے ہیں یہاں سے آگے
خواب تعبیر میں ڈھلتے ہیں یہاں سے آگے آ نکل جائیں شب وہم و گماں سے آگے ۔ رنگ پیراہن خاکی کا بدلنے کے لیے مجھ کو جانا ہے ابھی ریگ رواں سے آگے ۔ اک قدم اور سہی شہر تنفس سے ادھر اک سفر اور سہی کوچۂ جاں سے آگے ۔ اس سفر سے
خواب تعبیر میں ڈھلتے ہیں یہاں سے آگے Read More »