MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

خواب تعبیر میں ڈھلتے ہیں یہاں سے آگے

خواب تعبیر میں ڈھلتے ہیں یہاں سے آگے آ نکل جائیں شب وہم و گماں سے آگے ۔ رنگ پیراہن خاکی کا بدلنے کے لیے مجھ کو جانا ہے ابھی ریگ رواں سے آگے ۔ اک قدم اور سہی شہر تنفس سے ادھر اک سفر اور سہی کوچۂ جاں سے آگے ۔ اس سفر سے

خواب تعبیر میں ڈھلتے ہیں یہاں سے آگے Read More »

ملے تو کاش مرا ہاتھ تھام کر لے جائے

ملے تو کاش مرا ہاتھ تھام کر لے جائے وہ اپنے گھر نہ سہی مجھ کو میرے گھر لے جائے ۔ بتان شہر تمہارے لرزتے ہاتھوں میں کوئی تو سنگ ہو ایسا کہ میرا سر لے جائے ۔ دیا کروں گا یوں ہی تیرے نام کی دستک مرا نصیب مجھے لاکھ در بدر لے جائے

ملے تو کاش مرا ہاتھ تھام کر لے جائے Read More »

کیا خوب یہ انا ہے کہ کشکول توڑ کر

کیا خوب یہ انا ہے کہ کشکول توڑ کر اب تک کھڑے ہوئے ہیں وہیں ہاتھ جوڑ کر ۔ مر ہی نہ جائے ضبط فغاں سے کہیں یہ شہر سینے سے اس کے آہ نکالو جھنجھوڑ کر ۔ سنت ہے کوئی ہجرت ثانی بھلا بتاؤ جاتا ہے کوئی اپنے مدینے کو چھوڑ کر ۔ اس

کیا خوب یہ انا ہے کہ کشکول توڑ کر Read More »

کشت امید بارور نہ ہوئی

کشت امید بارور نہ ہوئی لاکھ سورج اگے سحر نہ ہوئی ۔ ہم مسافر تھے دھوپ کے ہم سے ناز برداریٔ شجر نہ ہوئی ۔ مجھ کو افسوس ہے کہ تیری طرف سب نے دیکھا مری نظر نہ ہوئی ۔ گھر کی تقسیم کے سوا اب تک کوئی تقریب میرے گھر نہ ہوئی ۔ نام

کشت امید بارور نہ ہوئی Read More »

کئی عکس ماہ تمام تھے مجھے کھا گئے

کئی عکس ماہ تمام تھے مجھے کھا گئے وہ جو خواب سے لب بام تھے مجھے کھا گئے ۔ کوئی راکھ تھی جو سلگ رہی تھی ادھر ادھر وہ جو رنگ سایۂ شام تھے مجھے کھا گئے ۔ وہ جو آنسوؤں کی زبان تھی مجھے پی گئی وہ جو بے بسی کے کلام تھے مجھے

کئی عکس ماہ تمام تھے مجھے کھا گئے Read More »

وصال و ہجر سے وابستہ تہمتیں بھی گئیں

وصال و ہجر سے وابستہ تہمتیں بھی گئیں وہ فاصلے بھی گئے اب وہ قربتیں بھی گئیں ۔ دلوں کا حال تو یہ ہے کہ ربط ہے نہ گریز محبتیں تو گئیں تھی عداوتیں بھی گئیں ۔ لبھا لیا ہے بہت دل کو رسم دنیا نے ستم گروں سے ستم کی شکایتیں بھی گئیں ۔

وصال و ہجر سے وابستہ تہمتیں بھی گئیں Read More »

من کے مندر میں ہے اداسی کیوں

من کے مندر میں ہے اداسی کیوں نہیں آئی وہ دیو داسی کیوں ۔ ابر برسا برس کے کھل بھی گیا رہ گئی پھر زمین پیاسی کیوں ۔ اک خوشی کا خیال آتے ہی چھا گئی ذہن پر اداسی کیوں ۔ زندگی بے وفا ازل سے ہے پھر بھی لگتی ہے باوفا سی کیوں ۔

من کے مندر میں ہے اداسی کیوں Read More »