خواب تعبیر میں ڈھلتے ہیں یہاں سے آگے
آ نکل جائیں شب وہم و گماں سے آگے
۔
رنگ پیراہن خاکی کا بدلنے کے لیے
مجھ کو جانا ہے ابھی ریگ رواں سے آگے
۔
اک قدم اور سہی شہر تنفس سے ادھر
اک سفر اور سہی کوچۂ جاں سے آگے
۔
اس سفر سے کوئی لوٹا نہیں کس سے پوچھیں
کیسی منزل ہے جہان گزراں سے آگے
۔
میں بہت تیز ہواؤں کی گزر گاہ میں ہوں
ایک بستی ہے کہیں میرے مکاں سے آگے
۔
میری آوارگی یوں ہی تو نہیں ہے عاصمؔ
کوئی خوشبو ہے مری عمر رواں سے آگے
لیاقت علی عاصم