MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خواب تعبیر میں ڈھلتے ہیں یہاں سے آگے

خواب تعبیر میں ڈھلتے ہیں یہاں سے آگے

آ نکل جائیں شب وہم و گماں سے آگے

۔

رنگ پیراہن خاکی کا بدلنے کے لیے

مجھ کو جانا ہے ابھی ریگ رواں سے آگے

۔

اک قدم اور سہی شہر تنفس سے ادھر

اک سفر اور سہی کوچۂ جاں سے آگے

۔

اس سفر سے کوئی لوٹا نہیں کس سے پوچھیں

کیسی منزل ہے جہان گزراں سے آگے

۔

میں بہت تیز ہواؤں کی گزر گاہ میں ہوں

ایک بستی ہے کہیں میرے مکاں سے آگے

۔

میری آوارگی یوں ہی تو نہیں ہے عاصمؔ

کوئی خوشبو ہے مری عمر رواں سے آگے

لیاقت علی عاصم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم