MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یہ بات میری نہیں بات میرےخواب کی ہے

Yeh Baat Meri Nahi baat mery Khowab ki hay غزل یہ بات میری نہیں بات میرےخواب کی ہے یہ دل کی جو بھی ہے وہ سلطنت جناب کی ہے اٹھائے پھرتا ہے ہر شخص ایک پیمانہ جگر کے خون میں لذت کسی شراب کی ہے ہو جیسے تشنہ لبی کا کوئی شکار یہاں جو دل

یہ بات میری نہیں بات میرےخواب کی ہے Read More »

کرتی ہے وار دل پہ یہ تلوار کی طرح

Karti Hay Waar Dil Pay yeh Talwar ki tarah غزل کرتی ہے وار دل پہ یہ تلوار کی طرح چلتی ہے جب ہوا تری گفتار کی طرح جس دل کو میں نے رکھا بڑے احترام سے پوچھے ہے مول وہ بھی خریدار کی طرح احساس کی دکان پہ رکھے ہوئے ہیں خواب آنکھیں ہوئی ہیں

کرتی ہے وار دل پہ یہ تلوار کی طرح Read More »

شہر میں آج یہ منادی ہے

Shahr Main Aaj yeh Manadi Hay غزل شہر میں آج یہ منادی ہے کا ٹ دو گر زباں ہلا دی ہے تھی جو مانندِ داغ سینے پر یاد میں نے وہی مٹا دی ہے عشق کا یہ سبق دیا جس کو اس نے چھٹی مری کرا دی ہے خط مقفل تھے جس کے خانے میں

شہر میں آج یہ منادی ہے Read More »

تو زمیں پر ہے کہکشاں جیسا

تو زمیں پر ہے کہکشاں جیسا میں کسی قبر کے نشاں جیسا ۔ میں نے ہر حال میں کیا ہے شکر اس نے رکھا مجھے جہاں جیسا ۔ ہو گئی وہ بہن بھی اب رخصت پیار جس نے دیا تھا ماں جیسا ۔ فاصلہ کیوں دلوں میں آیا ہے گھر کے آنگن کے درمیاں جیسا

تو زمیں پر ہے کہکشاں جیسا Read More »

دوزخ بھی کیا گمان ہے جنت بھی ہے فریب

دوزخ بھی کیا گمان ہے جنت بھی ہے فریب ان وسوسوں میں میری عبادت بھی ہے فریب ۔ دریا و دشت اور سمندر بھی ہیں سراب دن کا اجالا رات کی ظلمت بھی ہے فریب ۔ تیرا ہر اک خیال بھی اک خوشنما گمان دنیا ہی کیا خود اپنی حقیقت بھی ہے فریب ۔ پرچھائیں

دوزخ بھی کیا گمان ہے جنت بھی ہے فریب Read More »

جب بھی دشمن بن کے اس نے وار کیا

جب بھی دشمن بن کے اس نے وار کیا میں نے اپنے لہجے کو تلوار کیا ۔ میں نے اپنے پھول سے بچوں کی خاطر کاغذ کے پھولوں کا کاروبار کیا ۔ میری محنت کی قیمت کیا دے گا تو میں نے دشت و صحرا کو گلزار کیا ۔ میں فرہادؔ یا مجنوں کیسے بن

جب بھی دشمن بن کے اس نے وار کیا Read More »

رابطہ کم سے کم ہوا تو ہے

Rabita Kam say Kam Howa to hay غزل رابطہ کم سے کم ہوا تو ہے دودور رہ کر بھی وہ مرا تو ہے کیسے شکوہ کروں کہ جب میں نے زندگی تجھ پہ کچھ لکھا تو ہے مجھ سے پوچھا سزاؤں کا مطلب زندگی کہہ دیا سزا تو ہے ہجر میں بے تکی مشقت کا

رابطہ کم سے کم ہوا تو ہے Read More »

ہمیں نزدیک کب دل کی محبت کھینچ لاتی ہے

ہمیں نزدیک کب دل کی محبت کھینچ لاتی ہے تجھے تیری مجھے میری ضرورت کھینچ لاتی ہے ۔ چھپا ہے جو خزانہ تہہ میں ان بنجر زمینوں کی اسے باہر زمیں سے میری محنت کھینچ لاتی ہے ۔ میں ماضی کو بھلا کر اپنے مستقبل میں زندہ ہوں نگاہوں سے ہے جو اوجھل بشارت کھینچ

ہمیں نزدیک کب دل کی محبت کھینچ لاتی ہے Read More »

کیسا ماتم کیسا رونا مٹی کا

کیسا ماتم کیسا رونا مٹی کا ٹوٹ گیا ہے ایک کھلونا مٹی کا ۔ اتروں گا آفاق سے جب میں دھرتی پر بھر لوں گا دامن میں سونا مٹی کا ۔ اک دن مٹی اوڑھ کے مجھ کو سونا ہے کیا غم جو ہے آج بچھونا مٹی کا ۔ اونچا اڑنے کی خواہش میں تم

کیسا ماتم کیسا رونا مٹی کا Read More »

اندھے عدم وجود کے گرداب سے نکل

اندھے عدم وجود کے گرداب سے نکل یہ زندگی بھی خواب ہے تو خواب سے نکل ۔ سورج سے اپنے بچھڑی ہوئی اک کرن ہے تو تیرا نصیب جسم کے برفاب سے نکل ۔ تو مٹی پانی آگ ہوا میں ہے قید کیوں ہونے کا دے جواز تب و تاب سے نکل ۔ پھولوں میں

اندھے عدم وجود کے گرداب سے نکل Read More »