MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مسافر ہوں میں اب تیری گلی کا

مسافر ہوں میں اب تیری گلی کاسلیقہ آ گیا ہے دوستی کا میں تیرے راستوں پر چل رہا ہوںمزا آنے لگا ہے زندگی کا ابھی تک آئنہ برہم ہے مجھ پربنے گا کیا مری بے چہرگی کا میں سچے حرف لکھتا ہوں ہمیشہقصیدہ میں نہیں لکھتا کسی کا اندھیرے راستہ روکے کھڑے ہیںسفر جاری ہے

مسافر ہوں میں اب تیری گلی کا Read More »

ایک تو مہنگائی اس پر لوڈ شیڈنگ کیا کروں

Aik to Mehngai us per load Sheeding Kia Karoon غزل ایک تو مہنگائی اس پر لوڈ شیڈنگ کیا کروںزندگی نے کی ہے مجھ سے ایسی ریگنگ کیا کروں سر سلامت ہے نہ ہے جب دسترس میں کچھ مرےاے محبت تجھ سے پھر میں ہینڈ شیکنگ کیا کروں ہر طرف بکھرے ہوئے ہیں حسرت و ارمان

ایک تو مہنگائی اس پر لوڈ شیڈنگ کیا کروں Read More »

شریکِ زیست وہی آئنہ ہے مدت سے

شریکِ زیست وہی آئنہ ہے مدت سےجو حرف حرف مجھے پڑھ رہا ہے مدت سے کوئی بھی چہرہ سجالے تو اپنے چہرے پریہ عیب کارِ ہنر بن چکا ہے مدت سے وصال و ہجر کے موسم گزار آیا ہوںمحبتوں کا مجھے تجربہ ہے مدت سے وہ ہم سفر ہے تو کھلتے ہیں راستے مجھ پرخزاں

شریکِ زیست وہی آئنہ ہے مدت سے Read More »

کبھی فلک پہ کبھی اس جہانِ فانی میں

کبھی فلک پہ کبھی اس جہانِ فانی میںمیں زندگی کی علامت ہوں ہر کہانی میں کسی کے لمسِ محبت کی شادمانی میںڈبو دیا اسے کچے گھڑے نے پانی میں وہ چاند چہرہ مری زندگی کا محور ہےجو میرا دوست بنا تھا بھری جوانی میں مرے حروفِ محبت نہیں کھلے اس پرمیں خرچ ہوگیا اظہارِ خوش

کبھی فلک پہ کبھی اس جہانِ فانی میں Read More »

پڑھ رہا ہوں اپنے بارے میں ترا لکھا ہوا

پڑھ رہا ہوں اپنے بارے میں ترا لکھا ہواتیری باتوں سے ترے باطن کا اندازہ ہوا دھیرے دھیرے اس کے سارے خال و خد مجھ پر کھلےجب وہ میری خلوتوں میں انجمن آرا ہوا میری آوارہ مزاجی میری مشکل بن گئیاعتبارِ عشق ٹوٹا تو میں شرمندہ ہوا میں نے اپنے روز و شب اس کے

پڑھ رہا ہوں اپنے بارے میں ترا لکھا ہوا Read More »

شامِ غم اوڑھے ہوئے بیٹھا ہوں اپنے لان میں

شامِ غم اوڑھے ہوئے بیٹھا ہوں اپنے لان میںخواب میرے جل رہے ہیں تیرے آتش دان میں ظلمتِ شب میں اجالوں کی عیادت کے لیےاک دیا میں بھی جلا دیتا ہوں روشن دان میں اس نے میرے گھر میں جس دن انجمن آرائی کیسینکڑوں جگنو اتر آئے مرے دالان میں جب شکستِ عشق پر ہنگامہ

شامِ غم اوڑھے ہوئے بیٹھا ہوں اپنے لان میں Read More »

دربدر پھرتا ہے ایسے خاک سے بچھڑا ہوا

Dar Badar Phirta hay aysay Khak say Bichra howa غزل دربدر پھرتا ہے ایسے خاک سے بچھڑا ہوا جیسے تنکا ہو کوئی خاشاک سے بچھڑا ہوا جانے کس کس کو وہ زخمی کر گیا دیکھو ذرا تیر لفظوں کا لبِ سفاک سے بچھڑا ہوا کس قدر لبریز ہے رنج و الم سے ہائے دل ایک

دربدر پھرتا ہے ایسے خاک سے بچھڑا ہوا Read More »

دل سے ٹپکا ہی نہیں آنکھ میں ٹھہرا ہی نہیں

Dil Say Tapka hi nahi Aankh main Tehra hi nahi غزل دل سے ٹپکا ہی نہیں آنکھ میں ٹھہرا ہی نہیں کیسا آنسو تھا تیری یاد کا ٹپکا ہی نہیں قیس تو بھی تو نہیں میں بھی نہیں ہوں لیلیٰ وادیِ عشق میں آتے ہوئے سوچا ہی نہیں کم نگاہی تھی یا پھر اس کا

دل سے ٹپکا ہی نہیں آنکھ میں ٹھہرا ہی نہیں Read More »

دھاگے سلجھ گئے مرے الجھے سوال کے

Dhaagy suljh Gayee Mery Uljhy Sawal kay غزل دھاگے سلجھ گئے مرے الجھے سوال کے میں بس چلی تھی بانہوں میں بانہوں کو ڈال کے آمد پہ رنگ بدلا ہے موسم نے اس طرح اترے پرندے شاخ پہ میرے خیال کے یہ دیکھنا تھا ہوگا سمندر کا کیا بھلا پتھر کو ہم نے دیکھ لیا

دھاگے سلجھ گئے مرے الجھے سوال کے Read More »

جزا گم صم سزا گم صم

Jaza Gum Sum Saza Gum Sum غزل جزا گم صم سزا گم صم گل و گلشن ہوا گم صم ہے نفرت کی فراوانی محبت بے صدا گم صم زمیں پر شور برپا ہے فلک پر ہے گھٹا گم صم سبھی ہیں بےوفا ظالم تبھی ہے یہ وفا گم صم یہی سانسوں کا شکوہ ہے خطاؤں

جزا گم صم سزا گم صم Read More »