Karti Hay Waar Dil Pay yeh Talwar ki tarah
غزل
کرتی ہے وار دل پہ یہ تلوار کی طرح
چلتی ہے جب ہوا تری گفتار کی طرح
جس دل کو میں نے رکھا بڑے احترام سے
پوچھے ہے مول وہ بھی خریدار کی طرح
احساس کی دکان پہ رکھے ہوئے ہیں خواب
آنکھیں ہوئی ہیں میری بھی بازار کی طرح
دنیا کی وحشتوں میں تخیل کا بانکپن
موجود ہے سماعتِ بیدار کی طرح
تحریر ہو گیا ہے ہتھیلی پہ غیر کی
جو ساتھ ساتھ تھا مرے دیوار کی طرح
بے چینیاں تمام ہوئیں دل کی جب صنم
دل ٹوٹا بکھرا کاغذی پندار کی طرح
ہم کو تو عشق اور محبت بھی دوستو
رکھتی ہے اپنے ساتھ گنہ گار کی طرح
کہنے کو مل گئیں ہیں ہمیں نعمتیں مگر
کوئی ملی نہ صحبتِ دلدار کی طرح
کشتی کو چھوڑ کر ہوا رخصت بھنور میں وہ
سمجھا تھا جس کے ساتھ کو پتوار کی طرح
فہمی ترے خمار کی بے ربط سازشیں
چلتی ہیں دل کے دشت پہ تلوار کی طرح
فریدہ عالم فہمی
Fareeda Aalam Fehmi