MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کرتی ہے وار دل پہ یہ تلوار کی طرح

Karti Hay Waar Dil Pay yeh Talwar ki tarah

غزل

کرتی ہے وار دل پہ یہ تلوار کی طرح
چلتی ہے جب ہوا تری گفتار کی طرح

جس دل کو میں نے رکھا بڑے احترام سے
پوچھے ہے مول وہ بھی خریدار کی طرح

احساس کی دکان پہ رکھے ہوئے ہیں خواب
آنکھیں ہوئی ہیں میری بھی بازار کی طرح

دنیا کی وحشتوں میں تخیل کا بانکپن
موجود ہے سماعتِ بیدار کی طرح

تحریر ہو گیا ہے ہتھیلی پہ غیر کی
جو ساتھ ساتھ تھا مرے دیوار کی طرح

بے چینیاں تمام ہوئیں دل کی جب صنم
دل ٹوٹا بکھرا کاغذی پندار کی طرح

ہم کو تو عشق اور محبت بھی دوستو
رکھتی ہے اپنے ساتھ گنہ گار کی طرح

کہنے کو مل گئیں ہیں ہمیں نعمتیں مگر
کوئی ملی نہ صحبتِ دلدار کی طرح

کشتی کو چھوڑ کر ہوا رخصت بھنور میں وہ
سمجھا تھا جس کے ساتھ کو پتوار کی طرح

فہمی ترے خمار کی بے ربط سازشیں
چلتی ہیں دل کے دشت پہ تلوار کی طرح

فریدہ عالم فہمی

Fareeda Aalam Fehmi

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم