MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جو جستجو کروں ہر راز پا بھی سکتا ہوں

جو جستجو کروں ہر راز پا بھی سکتا ہوں میں کائنات سے پردہ اٹھا بھی سکتا ہوں ۔ مرے بزرگوں نے بخشی ہے اک دعا ایسی بچھڑ گئے ہیں جو ان کو ملا بھی سکتا ہوں ۔ نہ کوئی زائچہ کھینچوں نہ دیکھوں ہاتھ ترا میں تیرے بارے میں سب کچھ بتا بھی سکتا ہوں

جو جستجو کروں ہر راز پا بھی سکتا ہوں Read More »

مان لے مان یار باقی ہے

Maan lay Maan Yaar baqi hay غزل مان لے مان یار باقی ہے وہ فضا مشکبار باقی ہے جانے والا تو جا چکا کب کا ہاں مگر انتظار باقی ہے زندگی میری اس تڑپ کو چکھ کیا کوئی ہونا وار باقی ہے بات کرنے کی اب کہاں فرصت بس گلے میں پکار باقی ہے سب

مان لے مان یار باقی ہے Read More »

جو اپنی خواہشوں میں تو نے کچھ کمی کر لی

جو اپنی خواہشوں میں تو نے کچھ کمی کر لی تو پھر یہ جان کہ تو نے پیمبری کر لی ۔ تجھے میں زندگی اپنی سمجھ رہا تھا مگر ترے بغیر بسر میں نے زندگی کر لی ۔ پہنچ گیا ہوں میں منزل پہ گردش دوراں ٹھہر بھی جا کہ بہت تو نے رہبری کر

جو اپنی خواہشوں میں تو نے کچھ کمی کر لی Read More »

تمہارے قرب کے لمحے گلاب لمحے تھے

Tumharay Qurb Kay lamhay gulab lamhay they غزل تمہارے قرب کے لمحے گلاب لمحے تھے جو چکھ کے دیکھا سبھی تو شراب لمحے تھے تمہارا ہاتھ تھا جب ہاتھ میں صنم اس پل نجانے کتنے حسیں ہم رکاب لمحے تھے محل تھے خوابوں کے ہر اک طرف حسیں جاناں بڑے بلند وہ عالی جناب لمحے

تمہارے قرب کے لمحے گلاب لمحے تھے Read More »

شہر کا شہر حریف‌ لب و رخسار ملا

شہر کا شہر حریف‌ لب و رخسار ملا نام میرا ہی لکھا کیوں سر دیوار ملا ۔ سوچتے سوچتے دھندلا گئے یادوں کے نقوش فکر کو میرے نہ اب تک لب اظہار ملا ۔ مشتہر کر دیا اتنا تری چاہت نے مجھے نام گھر گھر میں مرا صورت اخبار ملا ۔ جس کی قربت کو

شہر کا شہر حریف‌ لب و رخسار ملا Read More »

یہ کرشمہ سازیٔ عشق کی مری جان زندہ نظیر ہے

یہ کرشمہ سازیٔ عشق کی مری جان زندہ نظیر ہے جو فقیر تھا وہ امیر ہے جو امیر تھا وہ فقیر ہے ۔ مری خواہشوں کی بساط پر یہ جو ایک سرخ لکیر ہے یہی اک لکیر تو اصل میں نئے موسموں کی سفیر ہے ۔ نہ وہ سر زمیں نہ وہ آسماں مگر آج

یہ کرشمہ سازیٔ عشق کی مری جان زندہ نظیر ہے Read More »

مرحلے زیست کے دشوار نہیں دیوانو

مرحلے زیست کے دشوار نہیں دیوانو ماورائے رسن و دار نہیں دیوانو ۔ کیا کرو گے دل پر خوں کی حکایت سن کر یہ حدیث لب و رخسار نہیں دیوانو ۔ آج کیوں پند گر وقت کی تقریروں میں لذت شوخئ گفتار نہیں دیوانو ۔ خاکۂ ذہن پہ ابھرے تو کوئی نقش جمیل بند دروازۂ

مرحلے زیست کے دشوار نہیں دیوانو Read More »

وصال و ہجر کے قصے نہ یوں سناؤ ہمیں

وصال و ہجر کے قصے نہ یوں سناؤ ہمیں اب اس عذاب شب و روز سے بچاؤ ہمیں ۔ کسی بھی گھر میں سہی روشنی تو ہے ہم سے نمود صبح سے پہلے تو مت بجھاؤ ہمیں ۔ نہیں ہے خون شہیداں کی کوئی قدر یہاں لگا کے داؤ پہ ہم کو نہ یوں گنواؤ

وصال و ہجر کے قصے نہ یوں سناؤ ہمیں Read More »

یہ تو بجا کہ ہم رہیں چشم کرم سے دور دور

یہ تو بجا کہ ہم رہیں چشم کرم سے دور دور خود بھی نہ رہ سکے مگر آپ جو ہم سے دور دور ۔ دیر و حرم کی نفرتیں لوٹ چکیں نشاط زیست راہروان راہ نو دیر و حرم سے دور دور ۔ اہل جہاں سے کیا ہمیں صرف ملال اس کا ہے آپ بھی

یہ تو بجا کہ ہم رہیں چشم کرم سے دور دور Read More »

اس طرح کبھی راندۂ‌ دربار نہیں تھے

اس طرح کبھی راندۂ‌ دربار نہیں تھے رسوا تھے مگر یوں سر بازار نہیں تھے ۔ صحرا میں لئے پھرتی ہے دیوانگئ شوق کیا شہر میں تیرے در و دیوار نہیں تھے ۔ وہ دن گئے جب منزل جاناں کے مسافر رہرو تھے فقط قافلہ سالار نہیں تھے ۔ ہے جرأت گفتار تو پھر سامنے

اس طرح کبھی راندۂ‌ دربار نہیں تھے Read More »