MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہمارا بس نہیں چلتا کہ اب یہ کام کریں

ہمارا بس نہیں چلتا کہ اب یہ کام کریں تمہارے ساتھ محبت برائے نام کریں۔ تو میں خرید کے بھیجوں گی اپنے پیاروں کو یہ تاجران اگر کم خوشی کے دام کریں تمہیں بتا رہی ہوں اب محل میں آئے تو سلوک جیسا بھی چاہیں مرے غلام کریں بس ایک بار نظر آئے وہ بہار

ہمارا بس نہیں چلتا کہ اب یہ کام کریں Read More »

سب چراغوں کی ہدایات کا مطلب سمجھے

سب چراغوں کی ہدایات کا مطلب سمجھے چاند روٹھا تو سیہ رات کا مطلب سمجھے اس پہ اترے تھے محبت کے صحیفے لیکن ایک کافر کہاں تورات کا مطلب سمجھے کون رہ رہ کے وفاوں کو نبھانا سیکھے کون فرسودہ روایات کا مطلب سمجھے اس سے پہلے تو دعاوں پہ یقیں تھا کم کم تو

سب چراغوں کی ہدایات کا مطلب سمجھے Read More »

تو بدمزاج تھا تو نے بھی التجا نہیں کی

تو بدمزاج تھا تو نے بھی التجا نہیں کی جو اب فقیر سے تکرار ہے ، دعا نہیں کی میں خاندان کی پابندیوں سے واقف تھی خدا کا شکر ہے اس شخص نے وفا نہیں کی اذیتیں ہی سہی دل کی چوٹ بھی ہے عزیز پرانا زخم رفو کر لیا ، دوا نہیں کی۔ ہزار

تو بدمزاج تھا تو نے بھی التجا نہیں کی Read More »

دل کے زندان میں راحت کوئی چھن آتی تھی

دل کے زندان میں راحت کوئی چھن آتی تھی جب اداسی میں کبھی شہرِ سخن آتی تھی جن دنوں لوگ یہاں تازہ ہوا بانٹتے تھے میرے حصے میں بہت تیز گھٹن آتی تھی کیسے کرتی میں تری فہم و فراست پہ یقیں ؟ کیا تجھے مدحتِ تفسیرِ بدن آتی تھی ؟ سچ بتاؤں تو سکھایا

دل کے زندان میں راحت کوئی چھن آتی تھی Read More »

آنکھیں حریص نوچ لوں ، چہرے ادھیڑ دوں

آنکھیں حریص نوچ لوں ، چہرے ادھیڑ دوں جتنے غلط بُنے گئے ، لہجے ادھیڑ دوں پھر ساری ڈوریوں کو میں سلجھاؤں بیٹھ کر آپس میں جو الجھ گئے ، فرقے ادھیڑ دوں منظر دکھا رہی ہے وہ جو دیکھنے نہ تھے ایسا نہ ہو میں آنکھ کے خُلیے ادھیڑ دوں جرّاحِ وقت! ٹھیک سے

آنکھیں حریص نوچ لوں ، چہرے ادھیڑ دوں Read More »

کسی کی ایک دعا رد ہو ، دو قبول کرے

کسی کی ایک دعا رد ہو، دو قبول کرے یہ اختیار خدا کو ہے ، جو قبول کرے کچھ اور ہوتا تو وہ بھی اٹھا کے لے آتے ہمارے پاس اذیت ہے ، سو قبول کرے یہی تھی اصل میں اوقات میرے دشمن کی کہ میرے چھوڑے ہوئے عشق کو قبول کرے کہ جیسے کوکھ

کسی کی ایک دعا رد ہو ، دو قبول کرے Read More »

بہت سے ابر چلے آ رہے تھے جھوم کے ساتھ

بہت سے ابر چلے آ رہے تھے جھوم کے ساتھ سو کچھ چراغ جلانے پڑے ، نجوم کے ساتھ تمہارا ذکر بھی ہے ذکرِ دوستاں میں رقم یہ بالخصوص جو لکھا ہے بالعموم کے ساتھ میں خوشبوؤں سے گریزاں ہوں اس لیے کہ کئی پرانے زخم مہکتے ہیں ، پرفیوم کے ساتھ جو رفتگاں کو

بہت سے ابر چلے آ رہے تھے جھوم کے ساتھ Read More »

شکل و صورت سے نظر آتے تھے مغرور چراغ

شکل و صورت سے نظر آتے تھے مغرور چراغ ہم شبِ غم کے ستائے ہوئے بے نور چراغ میرے آنگن کو اجالے کی نہیں ہے عادت میری چوکھٹ سے جلا آؤ کہیں دور چراغ زخم ہر شام ہتھیلی پہ یوں لو دیتے ہیں جیسے جلتے ہیں مسلسل ، شبِ عاشور ، چراغ میری مٹھی میں

شکل و صورت سے نظر آتے تھے مغرور چراغ Read More »

منافقت کی سیاہی کو دور کرتے ہوئے

منافقت کی سیاہی کو دور کرتے ہوئے میں بجھ گئی ہوں یہاں صبحِ نور کرتے ہوئے یہ لوگ فہم و فراست سے ماورا ہیں ابھی میں تھک نہ جاؤں انہیں باشعور کرتے ہوئے مرے مزاج کی سختی سے تُو نہیں واقف تُو گر پڑے گا مجھے چُور چُور کرتے ہوئے امیرِ شہر کو فرعون ہی

منافقت کی سیاہی کو دور کرتے ہوئے Read More »

منسوب چراغوں سے ، طرفدار ہوا کے

منسوب چراغوں سے ، طرفدار ہوا کے تم لوگ منافق ہو ،، منافق بھی بَلا کے کیوں ضبط کی بنیاد ہلانے پہ تُلا ہے ؟ میں پھینک نہ دوں ہجر تجھے آگ لگا کے اک ذود فراموش کی بے فیض محبت جاوں گی گذرتے ہوئے راوی میں بہا کے اس وقت مجھے عمرِ رواں درد

منسوب چراغوں سے ، طرفدار ہوا کے Read More »