کسی کی ایک دعا رد ہو، دو قبول کرے
یہ اختیار خدا کو ہے ، جو قبول کرے
کچھ اور ہوتا تو وہ بھی اٹھا کے لے آتے
ہمارے پاس اذیت ہے ، سو قبول کرے
یہی تھی اصل میں اوقات میرے دشمن کی
کہ میرے چھوڑے ہوئے عشق کو قبول کرے
کہ جیسے کوکھ سے پیدا ہوئے کو کرتے ہیں
یہ زندگی مجھے اک بار تو قبول کرے
ہمیں تو راس نہیں آیا وصل کا ملبوس
جسے لبادہ یہ خوش آئے وہ قبول کرے
دیا ہے ترک تعلق کا مشورہ دل کو
سو اب پسند اسے ہو نہ ہو قبول کرے
کومل جوئیہ