MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کشتی کو کنارے پہ ڈبونا نہیں آتا

کشتی کو کنارے پہ ڈبونا نہیں آتا
جو جیت چکے ہیں اسے کھونا نہیں آتا

یہ کون سی منزل ہے خدا جانے جنوں کی
اب کوئی بھی دکھ ہو ہمیں رونا نہیں آتا

کاندھے پہ ہمارے ہی رہا عشق سلامت
یہ بوجھ کسی اور کو ڈھونا نہیں آتا

تب ذہن میں آتی ہے کوئی اس کے بغاوت
جب ہاتھ میں بچے کے کھلونا نہیں آتا

وہ شخص کہاں جائے مری جان کہ جس کو
جز تیرے کسی اور کا ہونا نہیں آتا

ناز مظفر آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم