MOJ E SUKHAN

جو کارِ زیست میں مشکل مقام آتے ہیں

جو کارِ زیست میں مشکل مقام آتے ہیں
ترے خیال مرا حوصلہ بڑھاتے ہیں

قلیل وقتِ طرب ہے ہمارے حصے میں
کشید کرتے ہیں لمحے تو مسکراتے ہیں

انا کے خول سے باہر نکل کے بات تو کر
صد اختلاف سہی ہاتھ تو ملاتے ہیں

یہ شہر سارا ہی فتنہ گروں کی زد پر ہے
چلو تو ہم کوئی بستی نئی بساتے ہیں

شبِ فراق میں یادوں کے اشک پلکوں پر
امید و مہر و وفا کے دیے جلاتے ہیں

جبیں پہ داغ ہیں خاکِ شفا کے میری ضیاء
چراغ بن کے لحد میں جو جگماتے ہیں

ضیاء زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم