MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

زمیں پہ انساں خدا بنا تھا وبا سے پہلے

زمیں پہ انساں خدا بنا تھا وبا سے پہلے وہ خود کو سب کچھ سمجھ رہا تھا وبا سے پہلے ۔ پلک جھپکتے ہی سارا منظر بدل گیا ہے یہاں تو میلہ لگا ہوا تھا وبا سے پہلے ۔ تم آج ہاتھوں سے دوریاں ناپتے ہو سوچو دلوں میں کس درجہ فاصلہ تھا وبا سے

زمیں پہ انساں خدا بنا تھا وبا سے پہلے Read More »

سیپ لہروں نے جب اچھالے کئی

Seep Lehroo nay jab uchaly kaee غزل سیپ لہروں نے جب اچھالے کئیدکھ سمندر نے پھر سنبھالے کئی عشق کے نام پر عداوت نےکاسہِ من میں درد ڈالے کئی بچ گئی اس لیے ترے غم سےیاررنج و غم اک دعا نے ٹالے کئی جب جدائی کا موڑ آیا تولفظ ہونٹوں نے پھر سنبھالے کئی جسم

سیپ لہروں نے جب اچھالے کئی Read More »

حسرتِ وصل خال آنکھوں میں

Hasrat e wasl Khaal Aankhoo main غزل حسرتِ وصل خال آنکھوں میںلے کے آئی ملال آنکھوں میں دھوپ چھاؤں کا اک عجب موسمہم نے دیکھا کمال آنکھوں میں عکس اور آئینہ ملے جب توکھو گئے سب سوال آنکھوں میں ضبط چھلکا تو ہم نے دیکھا پھردکھ کی لہروں کا جال آنکھوں میں رنج و غم

حسرتِ وصل خال آنکھوں میں Read More »

شگفتہ ذات کو پھر سے ذرا تعمیر کرنے تک

Shagufta Zaat ko phir sat Zara Tameer karny Tak غزل شگفتہ ذات کو پھر سے ذرا تعمیر کرنے تکبکھر جاؤں نہ خود میں ضبط کو تحریر کرنے تک مرے احساس میں جاگی ہے جب اس کی محبت تودعا کو ہاتھ کیوں پھیلے اسے تسخیر کرنے تک کسک یوں تو بچھڑنے کی ہمیشہ ساتھ رہتی ہےملا

شگفتہ ذات کو پھر سے ذرا تعمیر کرنے تک Read More »

کافی نہیں خطوط کسی بات کے لئے

کافی نہیں خطوط کسی بات کے لئے تشریف لائیے گا ملاقات کے لئے ۔ دنیا میں کیا کسی سے کسی کو غرض نہیں ہر کوئی جی رہا ہے فقط ذات کے لئے ۔ ہم بارگاہ ناز میں اس بے نیاز کی پیدا کئے گئے ہیں شکایات کے لئے ۔ ہیں پتھروں کی زد پہ تمہاری

کافی نہیں خطوط کسی بات کے لئے Read More »

ان سے تنہائی میں بات ہوتی رہی

ان سے تنہائی میں بات ہوتی رہی غائبانہ ملاقات ہوتی رہی ۔ ہم بلاتے وہ تشریف لاتے رہے خواب میں یہ کرامات ہوتی رہی ۔ کاسۂ چشم لبریز ہوتی رہی اس دریچے سے خیرات ہوتی رہی ۔ دل بھی زور آزمائی سے ہارا نہیں گرچہ ہر مرتبہ مات ہوتی رہی ۔ سر بچائے رہا صبر

ان سے تنہائی میں بات ہوتی رہی Read More »

ختم ہر اچھا برا ہو جائے گا

ختم ہر اچھا برا ہو جائے گا ایک دن سب کچھ فنا ہو جائے گا ۔ کیا پتا تھا دیکھنا اس کی طرف حادثہ اتنا بڑا ہو جائے گا ۔ مدتوں سے بند دروازہ کوئی دستکیں دینے سے وا ہو جائے گا ۔ ہے ابھی تک اس کے آنے کا یقین جیسے کوئی معجزہ ہو

ختم ہر اچھا برا ہو جائے گا Read More »

برا برے کے علاوہ بھلا بھی ہوتا ہے

برا برے کے علاوہ بھلا بھی ہوتا ہے ہر آدمی میں کوئی دوسرا بھی ہوتا ہے ۔ تم اپنے دیس کی سوغات ہو ہمارے لیے کہ حسن تحفۂ آب و ہوا بھی ہوتا ہے ۔ مقابلے پہ کمر بستہ ہم نہیں ہوتے اگر شکست کا خطرہ ذرا بھی ہوتا ہے ۔ تمہارے شہر میں ہے

برا برے کے علاوہ بھلا بھی ہوتا ہے Read More »

یادوں کے باغ سے وہ ہرا پن نہیں گیا

یادوں کے باغ سے وہ ہرا پن نہیں گیا ساون کے دن چلے گئے ساون نہیں گیا ۔ ٹھہرا تھا اتفاق سے وہ دل میں ایک بار پھر چھوڑ کر کبھی یہ نشیمن نہیں گیا ۔ ہر گل میں دیکھتا رخ لیلیٰ وہ آنکھ سے افسوس قیس دشت سے گلشن نہیں گیا ۔ رکھا نہیں

یادوں کے باغ سے وہ ہرا پن نہیں گیا Read More »

دل میں تم ہو خیال میں تم ہو

Dil Main Tum Ho Khyal main tum ho غزل دل میں تم ہو خیال میں تم ہوسانس کو سر میں تال میں تم ہو سوچ کے دائروں میں ہو سمٹےمیرے ماضی میں حال میں تم ہو مجھ کو آتی ہے بو ہتھیلی سےکیا لکیروں کے جال میں تم ہو جو خدا کے حضور رکھے ہیںمیرے

دل میں تم ہو خیال میں تم ہو Read More »