MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جب ہر نظر ہو خود ہی تجلی نمائے غم

غزل

جب ہر نظر ہو خود ہی تجلی نمائے غم
پھر آدمی چھپائے تو کیسے چھپائے غم

اس وقت تک ملی نہ مجھے لذت حیات
جب تک رہا زمانے میں ناآشنائے غم

میری نگاہ شوق ہی غم کا سبب نہیں
ان کی نگاہ ناز بھی ہے رہنمائے غم

سودائے عشق درد محبت جفائے دوست
ہم نے خوشی کے واسطے کیا کیا اٹھائے غم

شاید یہ ہے کرشمہ فریب‌ نشاط کا
گھبرا کے آ گئی ہے لبوں پر دعائے غم

فرحتؔ کی ہر ہنسی میں ہیں آنسو چھپے ہوئے
اس کی خوشی بھی اوڑھے ہوئے ہے ردائے غم

فرحت قادری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم