MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

راز ابل پڑے آخر آسماں کے سینوں سے

غزل

راز ابل پڑے آخر آسماں کے سینوں سے
ربط اس زمیں کو ہے اور بھی زمینوں سے

کون سا جہاں ہے یہ کیسے لوگ ہیں اس میں
اٹھتا ہے دھواں ہر دم دل کے آبگینوں سے

ہر بشر ہے فریادی ہر طرف اندھیرا ہے
مہر و مہ نہیں نکلے شہر میں مہینوں سے

اک طرف زبانوں پر دوستی کے نعرے ہیں
اک طرف ٹپکتا ہے خون آستینوں سے

مفلسوں کی بستی میں وسعتیں ہیں دنیا کی
آپ اتر کے دیکھیں تو اپنی شہ نشینوں سے

نا خدا کی ہمت کا امتحان لیتی ہے
ورنہ کد نہیں کچھ بھی موج کی سفینوں سے

تجربوں کی دنیا میں اہل علم و حکمت کو
رفعتیں ملیں فرحتؔ فکر و فن کے زینوں سے

فرحت قادری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم