کبھی صلیب کی صورت کبھی ہلالی تھا
غزل کبھی صلیب کی صورت کبھی ہلالی تھا مری نگاہ میں اک پیکر خیالی تھا ہماری آپ کی شاید کوئی مثال نہیں جو مر گیا ہے وہی آدمی مثالی تھا کئی پتنگ کی صورت خلا میں ڈوب گیا وہ جتنا تیز تھا اتنا ہی لاابالی تھا اڑا اور اڑ کے فضاؤں میں ہو گیا تحلیل […]
کبھی صلیب کی صورت کبھی ہلالی تھا Read More »