MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کبھی صلیب کی صورت کبھی ہلالی تھا

غزل کبھی صلیب کی صورت کبھی ہلالی تھا مری نگاہ میں اک پیکر خیالی تھا ہماری آپ کی شاید کوئی مثال نہیں جو مر گیا ہے وہی آدمی مثالی تھا کئی پتنگ کی صورت خلا میں ڈوب گیا وہ جتنا تیز تھا اتنا ہی لاابالی تھا اڑا اور اڑ کے فضاؤں میں ہو گیا تحلیل […]

کبھی صلیب کی صورت کبھی ہلالی تھا Read More »

وہ کھل کر مجھ سے ملتا بھی نہیں ہے

غزل وہ کھل کر مجھ سے ملتا بھی نہیں ہے مگر نفرت کا جذبہ بھی نہیں ہے یہاں کیوں بجلیاں منڈلا رہی ہیں یہاں تو ایک تنکا بھی نہیں ہے برہنہ سر میں صحرا میں کھڑا ہوں کوئی بادل کا ٹکڑا بھی نہیں ہے چلے آؤ مرے ویران دل تک ابھی اتنا اندھیرا بھی نہیں

وہ کھل کر مجھ سے ملتا بھی نہیں ہے Read More »

جتنے لوگ نظر آتے ہیں سب کے سب بیگانے ہیں

غزل جتنے لوگ نظر آتے ہیں سب کے سب بیگانے ہیں اور وہی ہیں دور نظر سے جو جانے پہچانے ہیں زنجیروں کا بوجھ لئے ہیں بے دیوار کے زنداں میں پھر بھی کچھ آواز نہیں ہے کیسے یہ دیوانے ہیں بچ بچ کر چلتے ہیں ہر دم شیشے کی دیواروں سے کون کہے دیوانہ

جتنے لوگ نظر آتے ہیں سب کے سب بیگانے ہیں Read More »

آئی خزاں چمن میں گئے دن بہار کے

غزل آئی خزاں چمن میں گئے دن بہار کے شرمندہ سب درخت ہیں کپڑے اتار کے میک اپ سے چھپ سکیں گی خراشیں نہ وقت کی آئینہ ساری باتیں کہے گا پکار کے انساں سمٹتا جاتا ہے خود اپنی ذات میں بندھن بھی کھلتے جاتے ہیں صدیوں کے پیار کے پھر کیا کرے گا رہ

آئی خزاں چمن میں گئے دن بہار کے Read More »

وہ لوگ بھی ہیں جو موجوں سے ڈر گئے ہوں گے

غزل وہ لوگ بھی ہیں جو موجوں سے ڈر گئے ہوں گے مگر جو ڈوب گئے پار اتر گئے ہوں گے لگی یہ فکر نئی دل کو آ کے منزل پر کہاں بھٹک کے مرے ہم سفر گئے ہوں گے پلٹ کے آنکھ میں وہ موج خوں نہیں آئی چڑھے ہوئے تھے جو دریا اتر

وہ لوگ بھی ہیں جو موجوں سے ڈر گئے ہوں گے Read More »

نہ پوچھو عقل کی چربی چڑھی ہے اس کی بوٹی پر

غزل نہ پوچھو عقل کی چربی چڑھی ہے اس کی بوٹی پر کسی شے کا اثر ہوتا نہیں کم بخت موٹی پر کفن سے دوسروں کے جو سلاتے ہیں لباس اپنا وہ جذبے ہنس رہے ہیں عشق سادہ کی لنگوٹی پر یہی عیش ایک دن اہل ہوس کا خون چاٹے گا ابھی کچھ دن لگا

نہ پوچھو عقل کی چربی چڑھی ہے اس کی بوٹی پر Read More »

لہولہان ہیں ہم اور جاں بلب بھی نہیں

غزل لہولہان ہیں ہم اور جاں بلب بھی نہیں ستم شعاروں کو احساس اس کا اب بھی نہیں جب اختیار سپید و سیاہ کا تھا ہمیں ہمارے گھر میں فروزاں تھی شمع تب بھی نہیں لٹا دی جس کے لئے سب متاع قلب و جگر اسی کو میری وفا کا یقین اب بھی نہیں سنے

لہولہان ہیں ہم اور جاں بلب بھی نہیں Read More »

ہر سمت قتل گاہ کا منظر ہے آج بھی

غزل ہر سمت قتل گاہ کا منظر ہے آج بھی پوشیدہ آستینوں میں خنجر ہے آج بھی ہے امن اور عدل کا شہرا بہت مگر سرگرم کار دست ستمگر ہے آج بھی جو مدتوں سے لوٹتا آیا ہے دوستو افسوس قوم کا وہی رہبر ہے آج بھی تم سے جدا ہوئے تو زمانہ ہوا مگر

ہر سمت قتل گاہ کا منظر ہے آج بھی Read More »

لمحات زندگی میں کچھ ایسے بھی آئے ہیں

غزل لمحات زندگی میں کچھ ایسے بھی آئے ہیں دل پر پڑی ہے چوٹ تو ہم مسکرائے ہیں یوں ہم نے گلستاں سے اندھیرے مٹائے ہیں بجھتے ہوئے چراغ لہو سے جلائے ہیں کچھ غم نہیں جو پھیلی ہے ہر سو غموں کی دھوپ سر پر ہمارے آپ کی زلفوں کے سائے ہیں ہوں منتظر

لمحات زندگی میں کچھ ایسے بھی آئے ہیں Read More »

نہ سوچیں اہل خرد مجھ کو آزمانے کو

غزل نہ سوچیں اہل خرد مجھ کو آزمانے کو میں جانتا ہوں بہت عقل کے فسانے کو نہیں قفس سے نکلنے کی آرزو صیاد دکھا دے ایک نظر میرے آشیانے کو اسیر کر کے قفس میں مجھے یہ حیرت ہے وہ کہہ رہے ہیں مجھی سے چمن بچانے کو سلوک اہل چمن سے یہ باغباں

نہ سوچیں اہل خرد مجھ کو آزمانے کو Read More »