MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں

بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں

الٰہی ترک الفت پر وہ کیونکر یاد آتے ہیں

۔

نہ چھیڑ اے ہم نشیں کیفیت صہبا کے افسانے

شراب بے خودی کے مجھ کو ساغر یاد آتے ہیں

۔

رہا کرتے ہیں قید ہوش میں اے وائے ناکامی

وہ دشت خود فراموشی کے چکر یاد آتے ہیں

۔

نہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتی

مگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں

۔

حقیقت کھل گئی حسرتؔ ترے ترک محبت کی

تجھے تو اب وہ پہلے سے بھی بڑھ کر یاد آتے ہیں

حسرت موہانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم