MOJ E SUKHAN

کیا ہوا ہم پہ جو اس بزم میں الزام رہے

کیا ہوا ہم پہ جو اس بزم میں الزام رہے
صاحب دل تو جہاں بھی رہے بدنام رہے

کوئی تقریب تو ہو دل کے بہلنے کے لئے
تو نہیں ہے تو ترا ذکر ترا نام رہے

ہم کو تو راس ہی آئی کسی کمسن کی وفا
ہائے وہ لوگ محبت میں جو ناکام رہے

اس ارادے سے اٹھایا ہے چھلکتا ہوا جام
ہم رہیں آج کہ یہ گردش ایام رہے

بے سبب کوئی نوازش نہیں کرتا سرشارؔ
دیکھیں کیا ان کی عنایات کا انجام رہے

سرشار صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم