MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ تو نہیں کہ تم سے محبت نہیں مجھے – Ye tou nahi ky tumse muhabbat nahi mujhe

یہ تو نہیں کہ تم سے محبت نہیں مجھے
اتنا ضرور ہے کہ شکایت نہیں مجھے

میں ہوں کہ اشتیاق میں سر تا قدم نظر
وہ ہیں کہ اک نظر کی اجازت نہیں مجھے

آزادئ گناہ کی حسرت کے ساتھ ساتھ
آزادئ خیال کی جرأت نہیں مجھے

دوبھر ہے گرچہ جور عزیزاں سے زندگی
لیکن خدا گواہ شکایت نہیں مجھے

جس کا گریز شرط ہو تقریب دید میں
اس ہوش اس نظر کی ضرورت نہیں مجھے

جو کچھ گزر رہی ہے غنیمت ہے ہم نشیں
اب زندگی پہ غور کی فرصت نہیں مجھے

میں کیوں کسی کے عہد وفا کا یقیں کروں
اتنی شدید غم کی ضرورت نہیں مجھے

سجدے مرے خیال جزا سے ہیں ماورا
مقصود بندگی سے تجارت نہیں مجھے

میں اور دے سکوں نہ ترے غم کو زندگی
ایسی تو زندگی سے محبت نہیں مجھے

احسانؔ کون مجھ سے سوا ہے مرا عدو
اپنے سوا کسی سے شکایت نہیں مجھے

احسان دانش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم