MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

آج بھڑکی رگ وحشت ترے دیوانوں کی – Aj bharki rag o wehshat tere deewano ki

آج بھڑکی رگ وحشت ترے دیوانوں کی
قسمتیں جاگنے والی ہیں بیابانوں کی

پھر گھٹاؤں میں ہے نقارۂ وحشت کی صدا
ٹولیاں بندھ کے چلیں دشت کو دیوانوں کی

آج کیا سوجھ رہی ہے ترے دیوانوں کو
دھجیاں ڈھونڈھتے پھرتے ہیں گریبانوں کی

روح مجنوں ابھی بیتاب ہے صحراؤں میں
خاک بے وجہ نہیں اڑتی بیابانوں کی

اس نے احسانؔ کچھ اس ناز سے مڑ کر دیکھا
دل میں تصویر اتر آئی پری خانوں کی

احسان دانش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم