MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر

تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر

سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر

کوہ کن کوہ کنی شیوۂ عشاق نہیں

ہے جو عاشق دل معشوق میں گھر پیدا کر

رنگ چاہے اگر اس باغ میں آزادی کا

نکہت گل کی طرح شوق سفر پیدا کر

قطرۂ اشک بنے گوہر گوش جاناں

آبرو اتنی تو اے دیدۂ تر پیدا کر

اڑ چلے گا ابھی اے یار ذرا بال تو کھول

تجھ کو بننا ہے پری زاد تو پر پیدا کر

کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیں

شوق دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر

میرے ہی دل پہ گرے کاش یہ بجلی بن کر

اے فلک آہ میں اتنا ہی اثر پیدا کر

آخرت میں عمل نیک ہی کام آئیں گے

پیش ہے تجھ کو سفر زاد سفر پیدا کر

عشق حسن نمکیں کا جو اٹھانا ہے مزا

پہلے کچھ ذائقۂ زخم جگر پیدا کر

اپنی گردش پہ بہت ہے تجھے اے چرخ گھمنڈ

جب میں جانوں کہ شب غم کی سحر پیدا کر

صدمے الفت کے اٹھانے ہیں الٰہی مشکل

دل اگر ایک دیا لاکھ جگر پیدا کر

عشق بازی کا اگر حوصلہ رکھتا ہے امیرؔ

دل جو لوہے کا تو پتھر کا جگر پیدا کر

امیر مینائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم