MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ تو میں کیونکر کہوں تیرے خریداروں میں ہوں

یہ تو میں کیونکر کہوں تیرے خریداروں میں ہوں

تو سراپا ناز ہے میں ناز برداروں میں ہوں

وصل کیسا تیرے نادیدہ خریداروں میں ہوں

واہ رے قسمت کہ اس پر بھی گنہ گاروں میں ہوں

حشر میں اتنا کہوں گا اس سے میں محروم وصل

پاک دامن تو ہے میں کیونکر گنہ گاروں میں ہوں

ناتوانی سے ہے طاقت ناز اٹھانے کی کہاں

کہہ سکوں کیونکر کہ تیرے ناز برداروں میں ہوں

جان پر صدمہ جگر میں درد دل کا حال زار

گھر کا گھر بیمار کس کس کے پرستاروں میں ہوں

ہائے رے غفلت نہیں ہے آج تک اتنی خبر

کون ہے مطلوب میں کس کے طلب گاروں میں ہوں

وہ کرشمے شان رحمت نے دکھائے روز حشر

چیخ اٹھا ہر بے گناہ میں بھی گنہگاروں میں ہوں

وہ مجھے روتا ہے میں روتا ہوں اس کی جان کو

دل مرے ماتم میں میں دل کے عزا داروں میں ہوں

صبح سے مطلب نہ گل سے کام کیا جانوں انہیں

میں تمہارے سینہ چاکوں میں دل افگاروں میں ہوں

دل جگر دونوں کی لاشیں ہجر میں ہیں سامنے

میں کبھی اس کے کبھی اس کے عزاداروں میں ہوں

میں کسی قالب میں ہوں خالی اداسی سے نہیں

رنگ ہوں یا بو ہوں مرجھائے ہوئے ہاروں میں ہوں

چھیڑ دیکھو میری میت پر جو آئے یہ کہا

تم وفاداروں میں ہو یا میں وفاداروں میں ہوں

زاہدو کافی ہے اتنی بات بخشش کے لیے

اس کو شوق مغفرت ہے میں گنہ گاروں میں ہوں

کس طرح فریاد کرتے ہیں بتا دو قاعدہ

اے اسیران قفس میں نو گرفتاروں میں ہوں

حال زار اپنا دکھا کر دل نے اس سے یوں کہا

کیوں اسی منہ پر یہ کہتے تھے میں دل داروں میں ہوں

بے گناہوں میں چلا زاہد جو اس کو ڈھونڈنے

مغفرت بولی ادھر آ میں گنہ گاروں میں ہوں

خال کہتا ہے دکھا کر یار کا حسن ملیح

میں بھی اس سرکار کے ادنیٰ نمک خواروں میں ہوں

اونچے اونچے مجرموں کی ہوگی پرسش حشر میں

کون پوچھے گا مجھے میں کن گنہگاروں میں ہوں

وقت آرایش پہن کر طوق بولا وہ حسین

اب وہ آزادی کہاں میں بھی گرفتاروں میں ہوں

چارہ سازی کس سے چاہیں اب مریض درد و غم

کہتے ہیں عیسیٰ کہ میں بھی ان کے بیماروں میں ہوں

بے گناہی کا تو دعویٰ ان کے آگے کیا مجال

ڈرتے ڈرتے منہ سے نکلا میں گنہ گاروں میں ہوں

پوچھتا ہوں وجہ آزادی تو کہتا ہے یہ سرو

میں کسی کے قد موزوں کی گرفتاروں میں ہوں

آ چکا تھا رحم اس کو سن کے میری بے کسی

درد ظالم بول اٹھا میں اس کے غم خواروں میں ہوں

سوز فرقت درد دل زخم جگر ناسور چشم

کچھ نہ پوچھو مبتلا میں کتنے آزاروں میں ہوں

شرم و شوخی دونوں گاہک ہیں الٰہی کیا کروں

ایک جنس بے حقیقت دو خریداروں میں ہوں

پھول میں پھولوں میں ہوں کانٹا ہوں کانٹوں میں امیرؔ

یار میں یاروں میں ہوں عیار عیاروں میں ہوں

امیر مینائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم