MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں بہت مشکل میں رہتے ہیں

نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں بہت مشکل میں رہتے ہیں
ترے دل میں نہیں ہم خیمہِ قاتل میں رہتے ہیں

بساطِ زندگی پر شورشِ رنج و الم سہہ کر
بہت مصروف ہم تخلیقِ لا حاصل میں رہتے ہیں

لگا کر آبلوں پر ہونٹ صحرائے یقیں تیرے
مرے اشعار کاغذ کے دھڑکتے دل میں رہتے ہیں

انہیں معلوم ہے تشنہ لبی کیا رنگ لاتی ہے
جو گھر ہوتے ہوئے بھی سایہِ محمل میں رہتے ہیں

تمہاری یاد کے سائے بہت آرام سے جاناں
تمہارے گھر میں یعنی اس دلِ بسمل میں رہتے ہیں

بسا کر خواب آنکھوں میں جلا کر کشتیاں دل کی
سخنور آج بھی اک شورشِ کل کل میں رہتے ہیں

کسی نے ہم سے پوچھا کس طرح رہتے ہو تم تنہا
کہا جیسے سمندر سایہِ ساحل میں رہتے ہیں

وہ جو آنسو تری یادوں میں آنکھوں نے بہائے تھے
وہ سب آنسو ترے رخسار کو اس تل میں رہتے ہیں

سسکتی ہیں جو تحریریں تو مطلب ہے یہی اس کا
ابھی کچھ حادثے ہونا رہِ منزل میں رہتے ہیں

خدا کا شکر ہے موجِ نسیمی کی بدولت اب
ترو تازہ ہزاروں خواب میرے دل میں رہتے ہیں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم