MOJ E SUKHAN

جس کا جواب ہے نہیں وہ بے وفا نہ پوچھ

Jis Ka jawab Hay Nahi wo Bay wafa na pooch

غزل

جس کا جواب ہے نہیں وہ بے وفا نہ پوچھ
خود پی کے دیکھ جامِ اجل ذائقہ نہ پوچھ

ہوتا نہیں ہوں خود کو کبھی دستیاب میں
تصویر کھینچ لے مری میرا پتہ نہ پوچھ

سونے دے یار سونے دے زخموں کو چھیڑ مت
تجھ کو بتا دیا ہے سبب بارہا نہ پوچھ

ہے خوف آ نہ جائے کہیں تو لپیٹ میں
انجام اس کہانی کا بادِ صبا نہ پوچھ

آنے لگے گا تجھ کو بھی میری طرح نظر
کیا مخلصی کا مجھ کو ملا ہے صلا نہ پوچھ

اس دوستی سے تیرا بھی اٹھ جائے گا یقیں
تو مجھ سے میرے صبر کی اب انتہا نہ پوچھ

خود تک پہنچ ہی جائے گا بس شرط ہے یہی
رک رک کے ہر مقام پہ تو راستہ نہ پوچھ

سب کچھ عیاں ہے چہرے سے پڑھ اور جان لے
لیکن خدا کے واسطے گزرا ہے کیا نہ پوچھ

کانوں تلک میں لایا ہوں ہونٹوں کی بات بس
کس طور سے نبھایا ہے یہ قافیہ نہ پوچھ

کس نے کرایا موجِ نسیمی سے رابطہ
منسوب کس کے نام ہے یہ معجزہ نہ پوچھ

نسیم شیخ

Naseem Shaikh

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم