MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جہاں تک عشق کی توفیق ہے رنگیں بناتے ہیں

غزل جہاں تک عشق کی توفیق ہے رنگیں بناتے ہیں وہ سنتے ہیں ہم ان کو سر گذشت دل سناتے ہیں ادھر حق الیقیں ہے اب وہ آتے اب وہ آتے ہیں ادھر انجم مری اس ذہنیت پر مسکراتے ہیں شب غم اور مہجوری یہ عالم اور مجبوری ٹپک پڑتے ہیں آنسو جب وہ ہم […]

جہاں تک عشق کی توفیق ہے رنگیں بناتے ہیں Read More »

مایوسِ ازل ہوں یہ مانا ناکام تمنا رہنا ہے

غزل مایوس ازل ہوں یہ مانا ناکام تمنا رہنا ہے جاتے ہو کہاں رخ پھیر کے تم مجھ کو تو ابھی کچھ کہنا ہے کھینچیں گے وہاں پھر سرد آہیں آنکھوں سے لہو پھر بہنا ہے افسانہ کہا تھا جو ہم نے دہرا کے وہیں تک کہنا ہے دشوار بہت یہ منزل تھی مر مٹ

مایوسِ ازل ہوں یہ مانا ناکام تمنا رہنا ہے Read More »

کیا کہئے داستان تمنا بدل گئی

غزل کیا کہئے داستان تمنا بدل گئی ان کی بدلتے ہی دنیا بدل گئی یہ دور انقلاب ہے خود نوشیوں کا دور ہر میکدے میں گردش مینا بدل گئی ہر پھول ہر کلی پہ برستا ہے اب لہو رنگینیٔ بہار چمن کیا بدل گئی نکھری ہوئی بہار میں چھالے ہیں خونچکاں اپنے قدم سے قسمت

کیا کہئے داستان تمنا بدل گئی Read More »

مئے کوثر کا اثر چشم سیہ فام میں ہے

غزل مئے کوثر کا اثر چشم سیہ فام میں ہے ساقیٔ مست عجب کیف ترے جام میں ہے دیکھیے فیصلۂ یاس و تمنا کیا ہو صبح محشر کی جھلک تیرگئ شام میں ہے نگہ مست کا پھر زہد شکن دور چلے پھر ڈھلے بادۂ سرجوش جو اس جام میں ہے چھا گئے شیوۂ بیداد پہ

مئے کوثر کا اثر چشم سیہ فام میں ہے Read More »

حسن نے مان لیا قابل تعزیر مجھے

غزل حسن نے مان لیا قابل تعزیر مجھے نظر آئی ہے محبت کی یہ تقصیر مجھے کیوں نہ ہو بادۂ سرجوش کی توقیر مجھے مل گئی پیر خرابات سے تحریر مجھے جلوۂ حسن کے مفہوم پہ جب غور کیا ایک دھندلی سی نظر آئی ہے تصویر مجھے اب مری وحشت رسوا کا عجب عالم ہے

حسن نے مان لیا قابل تعزیر مجھے Read More »

اب کوئی غم گسار ہمارا نہیں رہا

غزل اب کوئی غم گسار ہمارا نہیں رہا دنیا کو اعتبار ہمارا نہیں رہا اس فرط غم میں خون کے آنسو ٹپک پڑے اب دل بھی رازدار ہمارا نہیں رہا اس کی حضور پیر مغاں میں ہے منزلت جو عہد پائیدار ہمارا نہیں رہا ہر داغ ابھر کے زخم بنا زخم رشک گل دل مائل

اب کوئی غم گسار ہمارا نہیں رہا Read More »

اے عشق تو نے واقف منزل بنا دیا

غزل اے عشق تو نے واقف منزل بنا دیا اب مرحلوں کو اور بھی مشکل بنا دیا اللہ رے شوق قیس کی جلوہ طرازیاں اکثر غبار دشت کو محمل بنا دیا میں غرق ہو رہا تھا کہ طوفان عشق نے اک موج بے قرار کو ساحل بنا دیا ہم نے اک آہ سرد کو شمع

اے عشق تو نے واقف منزل بنا دیا Read More »

پھر اعتبار عشق کے قابل نہیں رہا

غزل پھر اعتبار عشق کے قابل نہیں رہا جو دل تری نظر سے گرا دل نہیں رہا نشتر چبھوئے اب نہ پشیمانئ نگاہ مجھ کو تو شکوۂ خلش دل نہیں رہا موجیں ابھار کر مجھے جس سمت لے چلیں حد نگاہ تک کہیں ساحل نہیں رہا کل تک تو میرے سینے میں آباد تھا مگر

پھر اعتبار عشق کے قابل نہیں رہا Read More »

ہر سانس ہے شرح ناکامی پھر عشق کو رسوا کون کرے

غزل ہر سانس ہے شرح ناکامی پھر عشق کو رسوا کون کرے تکمیل وفا ہے مٹ جانا جینے کی تمنا کون کرے جو غافل تھے ہشیار ہوئے جو سوتے تھے بیدار ہوئے جس قوم کی فطرت مردہ ہو اس قوم کو زندہ کون کرے ہر صبح کٹی ہر شام کٹی بیداد سہی افتاد سہی انجام

ہر سانس ہے شرح ناکامی پھر عشق کو رسوا کون کرے Read More »

دل پر رکھو نگاہ جگر پر نظر کرو

غزل دل پر رکھو نگاہ جگر پر نظر کرو مقدور ہو تو ذات میں اپنی سفر کرو ہنگام خیر مقدم صبح نشاط ہے پروانہ وار شام سے رقص شرر کرو زنجیر توڑنا بھی بڑا کام تھا مگر فرصت میں ہو تو زینت دیوار و در کرو مایوس کن ہے عالم امکاں ابھی تو کیا دنیائے

دل پر رکھو نگاہ جگر پر نظر کرو Read More »