جہاں تک عشق کی توفیق ہے رنگیں بناتے ہیں
غزل جہاں تک عشق کی توفیق ہے رنگیں بناتے ہیں وہ سنتے ہیں ہم ان کو سر گذشت دل سناتے ہیں ادھر حق الیقیں ہے اب وہ آتے اب وہ آتے ہیں ادھر انجم مری اس ذہنیت پر مسکراتے ہیں شب غم اور مہجوری یہ عالم اور مجبوری ٹپک پڑتے ہیں آنسو جب وہ ہم […]
جہاں تک عشق کی توفیق ہے رنگیں بناتے ہیں Read More »