میں صرف وہ نہیں جو نظر آ گیا تجھے
غزل میں صرف وہ نہیں جو نظر آ گیا تجھے مژدہ پھر اذن بار دگر آ گیا تجھے صحرا میں جان دینے کے موقعے تو اب بھی ہیں وہ کیا جنوں تھا لے کے جو گھر آ گیا تجھے پہلے کبھی تو موت کو تجھ سے گلہ نہ تھا جینے کا آج کیسے ہنر آ […]
میں صرف وہ نہیں جو نظر آ گیا تجھے Read More »