نہ وہ طائروں کا جمگھٹ نہ وہ شاخ آشیانہ
غزل نہ وہ طائروں کا جمگھٹ نہ وہ شاخ آشیانہ تم اسے خزاں کہو گے کہ بہار کا زمانہ میں وفاؤں کا ہوں پیکر مرا جذب مخلصانہ مجھے آزما لے ہمدم جو تو چاہے آزمانا تو مجھے تباہ کر دے تو مرا نشاں مٹا دے نہ کروں گا میں گوارا مگر اپنا سر جھکانا جو […]
نہ وہ طائروں کا جمگھٹ نہ وہ شاخ آشیانہ Read More »