MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

نہ وہ طائروں کا جمگھٹ نہ وہ شاخ آشیانہ

غزل نہ وہ طائروں کا جمگھٹ نہ وہ شاخ آشیانہ تم اسے خزاں کہو گے کہ بہار کا زمانہ میں وفاؤں کا ہوں پیکر مرا جذب مخلصانہ مجھے آزما لے ہمدم جو تو چاہے آزمانا تو مجھے تباہ کر دے تو مرا نشاں مٹا دے نہ کروں گا میں گوارا مگر اپنا سر جھکانا جو […]

نہ وہ طائروں کا جمگھٹ نہ وہ شاخ آشیانہ Read More »

کچھ اپنے دور کی بھی کہانی لکھا کرو

غزل کچھ اپنے دور کی بھی کہانی لکھا کرو پتھر کو موم خون کو پانی لکھا کرو جدت کی رو میں لوگ کہاں سے کہاں گئے تم سے بنے تو بات پرانی لکھا کرو وہ عہد ہے کہ شعلہ فشاں بجلیوں کو بھی غزلوں میں رنگ و نور کی رانی لکھا کرو لفظوں کو اپنے

کچھ اپنے دور کی بھی کہانی لکھا کرو Read More »

دعا ہماری کبھی با اثر نہیں ہوتی

غزل دعا ہماری کبھی با اثر نہیں ہوتی تمہاری ہم پہ کرم کی نظر نہیں ہوتی میں کیا بتاؤں ترے غم میں کیا گزرتی ہے وہ کون لمحہ ہے جب آنکھ تر نہیں ہوتی علاج درد محبت جو ہو تو کیوں کر ہو الٰہی کوئی دوا کارگر نہیں ہوتی ترے خیال میں رہتا ہوں میں

دعا ہماری کبھی با اثر نہیں ہوتی Read More »

حشر اک گزرا ہے ویرانے پہ گھر ہونے تک

غزل حشر اک گزرا ہے ویرانے پہ گھر ہونے تک جانے کیا بیتی ہے دانے پہ شجر ہونے تک ہجر کی شب یہ مرے سوز دروں کا عالم جل کے میں خاک نہ ہو جاؤں سحر ہونے تک اہل دل رہتے ہیں تا زیست وفا کے پابند شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے

حشر اک گزرا ہے ویرانے پہ گھر ہونے تک Read More »

کس قدر اضطراب ہے یارو

غزل کس قدر اضطراب ہے یارو زندگی اک عذاب ہے یارو دل مرا صاف آئنہ کی طرح ایک سادہ کتاب ہے یارو میں ہوں ناکام عشق میں لیکن کیا کوئی کامیاب ہے یارو جب سے دیکھا ہے اس نے ہنس کے مجھے دل کی حالت خراب ہے یارو غم جاناں تو راحت دل ہے فکر

کس قدر اضطراب ہے یارو Read More »

ستم کے بعد بھی باقی کرم کی آس تو ہے

غزل ستم کے بعد بھی باقی کرم کی آس تو ہے وفا شعار نہیں وہ وفا شناس تو ہے وہ دل کی بات زباں سے نہ کچھ کہیں شاید ہمارے حال پہ چہرہ مگر اداس تو ہے یہ دل فریب بنارس کی صبح کا منظر اودھ کی شام دل آرا ہمارے پاس تو ہے بھرم

ستم کے بعد بھی باقی کرم کی آس تو ہے Read More »

دل تھا بے کیف محبت کی خطا سے پہلے

غزل دل تھا بے کیف محبت کی خطا سے پہلے لطف ایسا نہیں آیا تھا سزا سے پہلے ہائے انداز محبت بھی عجب تھا ان کا کر رہے تھے وہ جفا مجھ پہ وفا سے پہلے کس قدر تیری دعاؤں میں اثر تھا اے دوست ہو گیا ہوں میں صحت یاب دوا سے پہلے کیا

دل تھا بے کیف محبت کی خطا سے پہلے Read More »

شیشے سے زیادہ نازک تھا یہ شیشۂ دل جو ٹوٹ گیا

غزل شیشے سے زیادہ نازک تھا یہ شیشۂ دل جو ٹوٹ گیا مت پوچھو کہ مجھ پر کیا گزری جب ہاتھ سے ساغر چھوٹ گیا تاریکئ محفل کا شکوہ تم کرتے ہو اے دیوانو کیوں خود شمع بجھا دی ہے تم نے خود بخت تمہارا پھوٹ گیا ساقی کی نظر اٹھتی ہی نہیں کیوں بادہ

شیشے سے زیادہ نازک تھا یہ شیشۂ دل جو ٹوٹ گیا Read More »

بے سود ہے یہ جوش گریہ اے شمع سحر ہو جانے تک

غزل بے سود ہے یہ جوش گریہ اے شمع سحر ہو جانے تک چھینٹا ترے اشک پیہم کا پہنچا نہ کبھی پروانے تک اے اہل نظر میری ہستی سب کچھ تھی کبھی اب کچھ بھی نہیں زندہ ہوں مگر مہمان بقا اک سانس کے آنے جانے تک ہاں غور سے اک خوددار نظر اپنے ہی

بے سود ہے یہ جوش گریہ اے شمع سحر ہو جانے تک Read More »

تمکیں ہے اور حسن گریباں ہے اور ہم

غزل تمکیں ہے اور حسن گریباں ہے اور ہم خودداریوں کا خواب پریشاں ہے اور ہم ساحل سے دور غرق ہوئی کشتئ امید موجوں کو چھیڑتا ہوا طوفاں ہے اور ہم کس نے حریم ناز کا پردہ الٹ دیا نظروں میں ایک شعلۂ لرزاں ہے اور ہم تیری تجلیاں ہیں جہاں تک نظر گئی اسرار

تمکیں ہے اور حسن گریباں ہے اور ہم Read More »