MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جہاں تک عشق کی توفیق ہے رنگیں بناتے ہیں

غزل

جہاں تک عشق کی توفیق ہے رنگیں بناتے ہیں
وہ سنتے ہیں ہم ان کو سر گذشت دل سناتے ہیں

ادھر حق الیقیں ہے اب وہ آتے اب وہ آتے ہیں
ادھر انجم مری اس ذہنیت پر مسکراتے ہیں

شب غم اور مہجوری یہ عالم اور مجبوری
ٹپک پڑتے ہیں آنسو جب وہ ہم کو یاد آتے ہیں

وہیں سے درس حسن و عشق کا آغاز ہوتا ہے
جہاں سے واقعات زندگی ہم بھول جاتے ہیں

ہمیں کچھ عشق کے مفہوم پر ہے تبصرہ کرنا
اک آہ سرد کو عنوان شرح غم بناتے ہیں

بہا کر اشک خوں کھینچی تھیں جو آئینۂ دل میں
ہم ان موہوم تصویروں کو اب رنگیں بناتے ہیں

شباب‌ زندگی جلووں کا اک معصوم نظارہ
ہمیں اے دل وہ افسانے ابھی تک یاد آتے ہیں

دل شاہجہاں پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم