MOJ E SUKHAN

دل پر رکھو نگاہ جگر پر نظر کرو

غزل

دل پر رکھو نگاہ جگر پر نظر کرو
مقدور ہو تو ذات میں اپنی سفر کرو

ہنگام خیر مقدم صبح نشاط ہے
پروانہ وار شام سے رقص شرر کرو

زنجیر توڑنا بھی بڑا کام تھا مگر
فرصت میں ہو تو زینت دیوار و در کرو

مایوس کن ہے عالم امکاں ابھی تو کیا
دنیائے ممکنات پہ اپنی نظر کرو

جو غم بھی دے حیات خوشی سے قبول ہو
اتنا تو اہتمام غم معتبر کرو

اپنوں کو تو نباہنے والے ہزار ہیں
انسان ہو تو دل میں عدو کے بھی گھر کرو

جاتا نہیں یہ تیر کسی حال میں خطا
ہر مرحلہ حیات کا الفت سے سر کرو

سب لٹ رہے ہیں بر سر بازار ان دنوں
کس سے کہیں کہ قدر متاع ہنر کرو

اک رہ گزار منزل مستی ہے مے کدہ
ہر رند کو خوشی سے شریک سفر کرو

اے دلؔ بہت خراب ہیں حالات شہر کے
یاں جس کسی سے بات کرو مختصر کرو

دل ایوبی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم