MOJ E SUKHAN

اس دشت بے پناہ کی حد پر بھی خوش نہیں

غزل

اس دشت بے پناہ کی حد پر بھی خوش نہیں
میں اپنی خواہشوں سے بچھڑ کر بھی خوش نہیں

اک سر خوشی محیط ہے چاروں طرف مگر
بستی میں کوئی شخص کوئی گھر بھی خوش نہیں

کتنے ہیں لوگ خود کو جو کھو کر اداس ہیں
اور کتنے اپنے آپ کو پا کر بھی خوش نہیں

یہ کیفیت غلام نہیں قید و بند کی
اندر جو اپنے خوش نہیں باہر بھی خوش نہیں

ساحل کی بھیگی ریت پہ چلتا برہنہ پا
میں ہوں اداس اور سمندر بھی خوش نہیں

ذیشان ساحل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم