غزل
بیٹھی تھی کسی شاخ پہ جب رات کی تتلی
اڑتی تھی ہواؤں میں خیالات کی تتلی
نادان سے بچے نے اسے قید کیا تھا
کمزور ہوئی تھی مرے جذبات کی تتلی
یک لخت ہوئی جسم کے محلات میں روپوش
مجبور بہت تھی مرے حالات کی تتلی
جذبوں کی مہک روح کے پھولوں میں نہیں تھی
تھی وقت کی ہر شاخ پہ خطرات کی تتلی
لوگوں نے طرح دار گلابوں کو چھپایا
جب میں نے اڑائی تھی ہدایات کی تتلی
شب بھر مرے افکار کی دہلیز میں جامیؔ
تھک ہار کے سوتی رہی جذبات کی تتلی
عبدالمتین جامی