MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بیٹھی تھی کسی شاخ پہ جب رات کی تتلی

غزل

بیٹھی تھی کسی شاخ پہ جب رات کی تتلی
اڑتی تھی ہواؤں میں خیالات کی تتلی

نادان سے بچے نے اسے قید کیا تھا
کمزور ہوئی تھی مرے جذبات کی تتلی

یک لخت ہوئی جسم کے محلات میں روپوش
مجبور بہت تھی مرے حالات کی تتلی

جذبوں کی مہک روح کے پھولوں میں نہیں تھی
تھی وقت کی ہر شاخ پہ خطرات کی تتلی

لوگوں نے طرح دار گلابوں کو چھپایا
جب میں نے اڑائی تھی ہدایات کی تتلی

شب بھر مرے افکار کی دہلیز میں جامیؔ
تھک ہار کے سوتی رہی جذبات کی تتلی

عبدالمتین جامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم