MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ ہو کیسا ہی دبلا تار بستر ہو نہیں سکتا

وہ ہو کیسا ہی دبلا تار بستر ہو نہیں سکتا
غلط ہے آدمی اس طرح لاغر ہو نہیں سکتا

کبھی آنسو کا قطرہ مثل گوہر ہو نہیں سکتا
غلط ہے ابر نیساں دیدۂ تر ہو نہیں سکتا

میاں مجنوں ہوں چاہے کوہ کن ہو دونوں خبطی تھے
کسی کا کچھ بھی ان سے خاک پتھر ہو نہیں سکتا

کمر جس کے نہ ہو وہ بار سے کیوں کر چلے گا پھر
خلاف عقل ہے یہ اس طرح پر ہو نہیں سکتا

کہو پھر یہ کمر موٹی ہے سر چھوٹا ہے دلبر کا
نہیں تو پھر قد جاناں صنوبر ہو نہیں سکتا

وہ خط شوق کے جتنے پلندے چاہے لے جائے
ملازم ڈاک خانے میں کبوتر ہو نہیں سکتا

ظریفؔ آئینہ دے کر ڈارون صاحب کو سمجھا دو
نہ ہو جب تک شریر انسان بندر ہو نہیں سکتا

ظریف لکھنوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم