MOJ E SUKHAN

اگر کچھ موڑ رستے میں نہ آتے

غزل

اگر کچھ موڑ رستے میں نہ آتے
تو ممکن تھا تجھے ہم بھول جاتے

متاع ہوش کی بازی لگا کر
بساط عشق پہ ہم ہار جاتے

کہاں ماضی کہاں امروز و فردا
کہاں سے داستاں اپنی سناتے

غرور ضبط سے پہلو بچا کر
تمہیں کو دوستو ہم آزماتے

اگر ہوتا نہ کچھ خود پر بھروسہ
تمہیں اے دردؔ ہم محرم بناتے

وشو ناتھ درد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم