MOJ E SUKHAN

دل میں نہیں ہے کوئی تمنا ترے بغیر

دل میں نہیں ہے کوئی تمنا ترے بغیر
دشوار ہو گیا مجھے جینا ترے بغیر

آہیں لبوں پہ اشک ہیں آنکھوں میں مستقل
اک حشر سا ہے قلب میں برپا ترے بغیر

ساغر ہو مے ہو ابر ہو گلشن ہو کچھ بھی ہو
بے کار ساری نعمتیں عظمیٰ ترے بغیر

خوش خوش ہیں اہلِ شہر کے ہیں با مراد سب
حسرت سے ہوں ہر ایک کو تکتا ترے بغیر

تجھ سے ہی فکرِ شعر میں رنگینیاں بھی تھیں
اب تو نہیں تو شعر ہے پھیکا ترے بغیر

تیرے ہی دم سے اس میں نہیں ہیں یہ رونقیں
یونہی رہے گی شاد یہ دنیا ترے بغیر

شاد بہٹوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم