MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تو پورے شوق سے کر پوری بات اپنی

غزل

تو پورے شوق سے کر پوری بات اپنی
ترے قدموں میں رکھ دی ہے حیات اپنی
اسیر زلف بن کر کھو دی آزادی
اسیری میں نہ دن اپنا ،نہ رات اپنی
کہیں بہہ ہی نہ جائے اشک بن بن کر
ان آنکھوں میں ہے پنہاں کائنات اپنی
نچھاور کر دیا سب کچھ میں نے اپنا
وفا کر لے تو بھی تو کوئی بات اپنی
تُو اور کیا چاہتا ہے ہم سے اے فاتح
تری محفل میں ہار آئے حیات اپنی
مواقع تو بہت ملتے ہیں باتوں کے
نہیں ہوتی مکمل پھر بھی بات اپنی
زمانے کے ستم سارے تُو لکھ سہگلؔ
جھجک کیا ، ہے قلم اپنا ، دوات اپنی
احسان سہگل
Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم