MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تہہ میں ہر پیکر کی اک پیکر ابھرتا ہے ترا

تہہ میں ہر پیکر کی اک پیکر ابھرتا ہے ترا
کون اظہار مسلسل روک سکتا ہے ترا

قتل ہو جاتا ہے جب سورج دلوں کے دشت میں
گہری ظلمت میں معاً شعلہ لپکتا ہے ترا

نقش ابھرتے ہیں تری خوشبو کے سطح خاک پر
بے صدا گنبد میں بھی طائر چہکتا ہے ترا

ساغر گل سے ہزاروں رنگ اچھلتے ہیں ترے
اسم اعظم سبز لوحوں پر چمکتا ہے ترا

تازہ دم ہے کتنی صدیوں کا سفر کرنے کے بعد
قافلہ کب دورئ منزل سے تھکتا ہے ترا

لہلہاتا ہے دل عشرت میں روز و شب وہ نخل
جس کے برگ و شاخ میں موسم مہکتا ہے ترا

عشرت ظفر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم