MOJ E SUKHAN

شب بھر تصورات کا میلہ لگا رہا

غزل

شب بھر تصورات کا میلہ لگا رہا
سب سو گئے تو گھر میں مرے رتجگا رہا

کل ان لبوں پہ یوں مرا ذکر وفا رہا
وجدان جھومتا رہا وہ بولتا رہا

برسوں یہی مزاج سیاست بنا رہا
مجرم کی طرح شہر میں ہر بے خطا رہا

گھر سے نکل کے بند گلی میں پہنچ گئے
منزل ملی نہ گھر کا کوئی راستا رہا

میں چپ نہ رہ سکا لب تصویر کی طرح
میں آئنہ تھا آئنہ سچ بولتا رہا

عیاریٔ خرد کا فسوں کام کر گیا
اہل جنوں کی عقل پہ پردہ پڑا رہا

اللہ رے بے‌ شعوریٔ دانش کہ عمر بھر
وہ میرے ساتھ تھا میں اسے ڈھونڈھتا رہا

کوشش کے باوجود چھپائے نہ چھپ سکا
ہر قہقہے کے لہجہ میں غم بولتا رہا

میں ضبطؔ سنگ میل سمجھتا رہا جسے
وہ شخص میری راہ کا پتھر بنا رہا

ضبط انصاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم