ان کہے لفظ ۔۔
وہ سارے لفظ جو لکھے نہیں گئے ہیں ابھی
مرے لہو میں رواں ہیں صداقتوں کی طرح
میں بوند بوند حقیقت کا زہر پیتی ہوں
میں اشک اشک سلگتی ہوں رت جگوں کی طرح
وہ سارے لفظ جو لکھے نہیں گئے ہیں ابھی
خیالِ کن کی صداؤں کے منتظر ہیں ابھی
زمینِ خلد میں کلیوں کی آبیاری کو
مرے خیال کے انفاس معتبر ہیں ابھی
رہائی دینے کو بے چین ہیں مری آنکھیں
کہ اشک بن کے ٹپک جائیں میری تحریریں
میں شام کے سبھی منظر ہواؤں میں دیکھوں
اجالے بن کے بکھر جائیں میری تصویریں
وہ سارے لفظ جو لکھے نہیں گئے ہیں ابھی
میں سوچتی ہوں ان الفاظ کی خموشی کو
بسیط بحر کی گہرائیاں عطا کردوں
وہ قافلے کہ جو محصور ہیں خرابوں میں
جرس کی گونج کی مانند انہیں رہا کردوں
وہ سارے لفظ جو لکھے نہیں گئے ہیں ابھی
شائستہ مفتی