MOJ E SUKHAN

رنگ اس محفل تمکیں میں جمایا نہ گیا

رنگ اس محفل تمکیں میں جمایا نہ گیا
خامشی سے بھی مرا حال سنایا نہ گیا

وحشت دل نے حجابات جہاں چاک کیے
ایک پردہ رخ جاناں سے اٹھایا نہ گیا

عشق اک داغ سہی دامن ہستی پہ مگر
خود مشیت سے بھی یہ داغ مٹایا نہ گیا

کر دیا دفتر ہستی تو پریشاں دل نے
مگر اک خواب پریشاں کو بھلایا نہ گیا

وہ اندھیرا تھا کہ ہنگام سحر بھی ہم سے
شمع اندوہ جدائی کو بجھایا نہ گیا

سرحد عشق سے آگے نہ بڑھی وحشت عشق
حسن ہشیار کو دیوانہ بنایا نہ گیا

لاکھ عنواں سے بھلانا انہیں چاہا تھا روشؔ
کسی عنواں سے مگر ان کو بھلایا نہ گیا

روش صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم